حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 357 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 357

حیات احمد ۳۵۷ جلد سوم سے واپسی پر کپورتھلہ جانے کا وعدہ کرلیا۔سب سے پہلی مرتبہ بیعت کے قریب زمانہ میں بھی آپ نے وعدہ کیا تھا اور یکا یک بغیر اطلاع کپورتھلہ پہنچ گئے چنانچہ حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق فرمایا۔ایک دفعہ منشی روڑ ا صاحب مرحوم اور میں نے لدھیانہ میں حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ کبھی حضور کپورتھلہ میں تشریف لائیں ان دنوں کپورتھلہ میں ریل نہ آئی تھی۔حضور نے وعدہ فرمایا کہ ہم ضرور کبھی آئیں گے۔اس کے بعد جلد ہی حضور بغیر اطلاع دیئے ایک روز کپورتھلہ تشریف لے آئے اور یکہ خانہ سے اتر کر مسجد فتح والی نزدیگه خانه واقع کپورتھلہ تشریف لے گئے۔حافظ حامد علی صاحب ساتھ تھے۔مسجد سے حضور نے ملا کو بھیجا کہ منشی روڑا صاحب یا منشی ظفر احمد صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو۔میں اور منشی روڑا صاحب کچہری میں تھے کہ ملا نے آکر اطلاع دی کہ مرزا صاحب مسجد میں تشریف فرما ہیں اور انہوں نے مجھے بھیجا ہے کہ اطلاع کر دو منشی روڑ ا صاحب نے بڑی تعجب آمیز نا راضگی کے لہجہ میں پنجابی میں کہا۔”دیکھو تاں تیری مسیت وچ آ کے مرزا صاحب نے ٹھہر نا سی۔میں نے کہا۔چل کر دیکھنا تو چاہئے۔پھر منشی صاحب جلدی سے صافہ ( پگڑی باندھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضور فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔اور حافظ حامد علی صاحب پاؤں دبا رہے تھے اور پاس ایک پیالہ اور چمچہ رکھا تھا۔جس سے معلوم ہوا کہ شاید آپ نے دودھ ڈبل روٹی کھائی تھی۔منشی روڑا صاحب نے عرض کی کہ حضور نے اس طرح تشریف لانی تھی؟ ہمیں اطلاع فرماتے۔ہم کرتا رپور اسٹیشن پر حاضر ہوتے۔حضور نے جواب دیا۔اطلاع دینے کی کیا ضرورت تھی ہم نے وعدہ کیا تھا وہ پورا کرنا تھا۔- پھر حضور کو ہم اپنے ہمراہ لے آئے اور محلہ قائم پورہ کپورتھلہ میں جس مکان میں پرانا ڈاکخانہ بعد میں رہا ہے وہاں حضور کو ٹھہرایا۔وہاں حضور کے پاس بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔کرنیل محمد علی خاں صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ۔حضور تقریر فرماتے رہے۔کچھ