حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 355
حیات احمد ۳۵۵ جلد سوم غرض ان ایام میں سیالکوٹ میں ایک عجیب رونق تھی حضرت حکیم حسام الدین صاحب کی گلی میں ہر وقت ایک اثر دہام زیارت کرنے والوں کا ہوتا تھا ان میں سے بعض وہ لوگ بھی ہوتے جو حضرت کے پہلے قیام سیالکوٹ کے زمانہ میں آپ کے اخلاقی اور عملی کمالات کی وجہ سے محبت کرتے تھے۔اس سفر کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیعت کرنے والی خواتین میں وہ بزرگ بی بی مسماة حیات بی بی بنت میاں فضل الدین رضی اللہ عنہا بھی تھی جن کے مکان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عبد ملازمت سیالکوٹ میں مقیم تھے اور وہ آپ کے حسنات اور اخلاق فاضلہ کی چشم دید گواہ تھی۔اس نے حضرت اقدس کی اس زمانہ کی زندگی کے حالات بھی بیان کئے ہیں جو سیرت المہدی میں شائع ہوئے تھے۔حضرت نے اپنے اس قیام سیالکوٹ میں خود موصوفہ حیات بی بی کو بلایا اور بڑے تلطف سے اُن سے باتیں کیں یہ بزرگ بی بی ایک سو آٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئی ہیں۔سیالکوٹ کی جماعت کی خصوصیات سیالکوٹ کی جماعت کو یہ امتیاز اور خصوصیت حاصل ہے کہ یہ سلسلہ میں سب سے پہلی جماعت ہے جس نے حضرت اقدس کے دعاوی کے متعلق قلم سے کام لے کر سلطان القلم کے انصار میں سابق ٹھہرے۔حضرت مولوی عبد الکریم نے رسالہ قـول الـفـصيـح لکھا حضرت مولوی مبارک علی صاحب نے قول الجمیل لکھا اور حضرت میر حامد شاہ صاحب نے پہلے دعوت دہلی پھر الْقَوْلُ الْفَضْلُ مَاهُوَ بِالْهَذْلِ اور پھر ایک رسالہ الجواب کے نام سے مولوی سراج الدین صاحب انسپکٹر ڈاک خانہ جات جموں وکشمیر کے ایک مضمون کے جواب میں لکھا۔جو انہوں نے ریاست مولور سے نکلنے والے ایک اخبار میں جس کے ایڈیٹر سراج الدین ایڈیٹر چودہویں صدی تھے شائع کیا جو بہت مقبول ہوا۔یہ میں نے ان کی ان تصانیف کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے حضرت اقدس کے دعاوی کی تائید و تصدیق یا معترضین کے جواب میں لکھی تھیں۔