حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 352
حیات احمد ۳۵۲ جلد سوم مگر وہ علمی میدان میں بمقام لودھا نہ شکست کھا چکا تھا۔اور آسمانی فیصلہ پر اس نے اشاعة السنه میں ترمیم کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔اور اس طرح پر عوام کو اس روحانی مقابلہ میں بھی شکست کو مشکوک کرنا چاہا اور غیر متعلق باتیں لکھ کر مغالطہ دینے کی کوشش کی اور پھر عقاید کی بحث لے بیٹھا۔اصل دعوی سے گریز کیا باوجود اس کے کہ اسے یہ اعتراف تھا کہ حضرت لاہور میں اسی مقصد سے آئے ہیں چنانچہ اشاعۃ السنہ میں لکھا ہے۔اس فیصلہ کے دنبالہ میں کادیانی نے علمی مباحثہ کی طرف بھی اپنے مخالفوں کو بلایا اور یہ کہا ہے کہ میرے مخالف میرے دعویٰ وفات مسیح میں مجھ سے بحث نہ کر سکے اور اس بحث کو ناجائز شروط پیش کر کے ٹلا چکے تو میں نے یہ آسمانی گولا چلایا ہے وہ اب بھی لاہور میں مجھ سے بحث کریں تو میں مباحثہ کے لئے بھی حاضر ہوں۔اور اس کے حواری اس پر یہ حاشیہ چڑھاتے ہیں کہ حضرت کا دیانی صرف اسی وجہ سے لاہور میں آئے ہیں کہ وہ مولوی ابو سعید محمد حسین سے ان کے بٹالہ چلے جانے سے پہلے بحث کریں۔حضرت کا دیانی کو ان کے بٹالہ چلے جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپ ابھی لاہور میں نہ آتے کئی ضروریات ان کو اس سفر میں مانع تھیں ان کو ملتوی کر کے وہ لاہور میں اس غرض مباحثہ سے آئے ہیں۔اس دنبالہ کے آخر میں آپ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ دعویٰ وفات مسیح میں قرآن اور حدیث آپ کے ساتھ ہے۔قرآن میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ آنے والا مسیح حقیقی طور پر صلیب توڑے گا اور قتل خنازیر کا حکم دے گا اور اسلامی حکم جزیہ کو منسوخ کرے گا اور کتاب صحیح بخاری میں یہ نہیں لکھا کہ آنے والا مسیح ناصری بنی اسرائیلی ہوگا اس میں یہ لکھا ہے کہ وہ تم میں سے اور تمہارا ایک امام ہوگا اور لکھا ہے کہ مسیح وفات پاچکے ہیں یہ آپ کے فیصلہ اور حواشی اور دنبالہ کا خلاصہ ہے۔“ مگر یہ ہمت نہ ہوئی کہ وفات مسیح پر مباحثہ کر لیتے۔البتہ غیر معقول امورا اپنی تقریروں میں