حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 353 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 353

حیات احمد ۳۵۳ جلد سوم بیان کرتے رہے۔اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ آپ سیالکوٹ جا رہے ہیں مولوی محمد حسین صاحب نے ایک نوٹس مباحثہ کے لئے شائع کیا اور یہ اس دن میں شائع کیا گیا جس رات کو آپ کو سیالکوٹ روانہ ہونا تھا۔سفر سیالکوٹ حضرت اقدس ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک سیالکوٹ میں رہ چکے تھے اور قادیان کے بعد آپ سیالکوٹ کو بھی اپنا وطن سمجھتے تھے وہاں کے لوگوں نے چونکہ آپ کی عملی زندگی کو دیکھا ہوا تھا اس لئے وہاں جو جماعت قائم ہوئی۔وہ نہایت مشہور اور معزز طبقہ کے اہل علم لوگوں کی جماعت تھی اور جماعت نے متعدد مرتبہ سیالکوٹ آنے کی دعوت دی۔قیام لاہور میں حضرت مولوی عبدالکریم اسی مقصد سے آئے تھے کہ آپ جماعت کی طرف سے استدعا کریں حضرت نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا اور آپ فروری ۱۸۹۲ء کے دوسرے ہفتہ سیالکوٹ تشریف لے گئے اور حضرت حکیم سید حسام الدین صاحب کے مکان میں قیام فرمایا۔حضرت حسام الدین صاحب کے ساتھ آپ کے تعلقات اس زمانہ میں قائم ہوئے جبکہ آپ سیالکوٹ میں مقیم تھے اور حضرت حسام الدین صاحب کو یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ انہوں نے حضرت سے طب پڑھی ان کا سارا خاندان سلسلہ میں داخل ہو گیا انہیں ہر قسم کی خدمات کا شاندار موقعہ نصیب ہوا۔چونکہ سیالکوٹ کے لوگوں نے آپ کے قیام سیالکوٹ کے زمانہ میں آپ کے کردار و سیرت کو دیکھا ہوا تھا اور ان کے دلوں میں آپ کی پاکیزہ زندگی اور غیرت اسلامی کے مظاہروں کا اثر خاص تھا۔اس لئے انہیں عام طور پر آپ کے دعاوی پر تعجب تو ہوا مگر انہوں نے آپ کی مخالفت میں کوئی ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہ کی جو شرافت اور اخلاق سے گرا ہوا ہوتا۔بعض مخالف الرائے علماء بھی موجود تھے مگر ان میں سے جو ممتاز تھے جیسے مکرم مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب مرحوم امام جامع مسجد چھاؤنی انہوں نے بیعت کر لی اور حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب