حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 351
حیات احمد ۳۵۱ جلد سوم سفر لاہور کے ثمرات اس سفر لاہور کے ثمرات بہت خوشگوار نکلے تعلیم یافتہ نو جوانوں اور ملازمت پیشہ سلیم الفطرت مسلمانوں نے آپ کے دعوی کو قبول کیا۔اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور مخالف الرائے علماء میں سے کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ آسمانی فیصلہ کے موافق میدان میں آتا اور آپ کے مقابلہ میں اپنا مومن ہونا ان شرائط کے موافق ثابت کرتا جو قرآن کریم سے آپ نے پیش کی تھیں اور آج تک بھی کسی کو یہ حوصلہ نہیں ہوا۔مشایخ اور سجادہ نشین بھی موجود تھے۔اور الہام وکشوف کے مدعی بھی موجود تھے اور علماء ظاہر کا تو کیا کہنا لیکن جو لوگ اپنے مقرب باللہ ہونے کے دعاوی کرتے تھے ان کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ مقابلہ میں آتے۔ایک عجیب اعجاز یہ ایک نمایاں اعجاز ہے کہ جب بھی آپ نے غیر مذاہب کے لیڈروں کو جو مخالف الرائے مسلمانوں کو علمی یا روحانی مقابلہ کے لئے بلایا کرتے تھے بلا یا کسی نے کبھی جرات نہ کی بلکہ اس سے بچنے کے لئے اعتراضات کا سلسلہ شروع کر دیا۔اپنے اپنے موقعہ پر میں بیان کروں گا کہ کس طرح اس میدان میں آپ مظفر و منصور ثابت ہوئے اور آپ نے جو فرمایا تھا کہ چہ ہیبت ہا بداند این جوان را که ناید کس بمیدان محمد ہمیشہ کے لئے ایک تاریخی حجت ثابت ہوا۔مولوی محمد حسین اور آسمانی فیصلہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا کہ کسی عالم یا سجادہ نشین اور مدعی کشف و الہام کو اس مقابلہ میں آنے کا حوصلہ نہ ہوا۔مولوی محمد حسین صاحب کا تو فرض اولین تھا کہ وہ اس مقابلہ میں آتا۔ترجمہ۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ مد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی ( مقابلہ پر ) نہیں آتا۔