حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 349 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 349

حیات احمد ۳۴۹ جلد سوم اور بسط سے تشریح کی جائے گی جو میری کتابوں کے پڑھنے والوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور میری بعض تحریرات کو خلاف عقیدہ اہل سنت و الجماعت خیال کرتے ہیں۔سو میں انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب ان اوہام کے ازالہ کے لئے پوری تشریح کے ساتھ اِس رسالہ میں لکھ دوں گا۔اور مطابق اہل سنت والجماعت کے بیان کر دوں گا۔راق خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی مؤلف رساله توضیح مرام وازالة الاوهام ۳ رفروری ۱۸۹۲ء تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحه ۹۴ تا ۹۶ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۲۵۷، ۲۵۸ طبع بار دوم ) بقیہ حاشیہ نہیں کرتا نیز خاکسار افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ سیرت المہدی کا حصہ سوم زیر تصنیف ہے پیر سراج الحق صاحب نعمانی فوت ہو چکے ہیں۔پیر صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایات کا ایک عمدہ خزانہ تھے۔اصل بحث روایت کا مضمون ہے اور اس کے متعلق کوئی تنازعہ نہیں ہے صرف سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا حضرت مفتی صادق صاحب کا بیان تو خود نونِ ثقیلہ کے سلسلہ میں حضرت صاحب زادہ صاحب نے صاف کر دیا۔لاہور اور لودھانہ کے واقعہ کے متعلق وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکے اس لئے کہ صاحب زادہ صاحب اس تحریر کے وقت فوت ہو چکے تھے۔مگر لو دھانہ کا مباحثہ طبع شدہ موجود ہے اس مباحثہ کا موضوع تو احادیث کے مقام اور ان کی صحت کا معیار رہا۔اس میں نہ کسی حدیث صحیح بخاری کے پیش کرنے کا مطالبہ ہوا اور نہ یہ واقعہ پیش آیا۔میں ایک قطعی یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ لاہور ہی کا واقعہ ہے۔اور میرا چشم دید واقعہ ہے۔مباحثہ کے ختم کے بعد یہ سوال حضرت مخدوم الملة مولانا عبد الکریم رضی اللہ عنہ نے بطور اظہار تعجب کیا کہ جب آپ مختلف ورق الٹ رہے تھے۔تو مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ بغیر کسی خاص باب یا مقام کی تلاش کے ورق الٹتے جارہے ہیں۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ مجھے تمام اور اق سفید دکھائے گئے جن پر کچھ لکھ نہ تھا اور جہاں یہ حوالہ جلی قلم سے لکھا ہوا تھا وہ مقام میں نے پیش کر دیا۔غرض یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو حضرت کی صداقت اور نصرت الہی کے ظہور کا اعجاز ہے۔(عرفانی الکبیر ) ا سیرت المہدی جلد اوّل صفحه ۴۹۵ تا ۷ ۴۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء۔