حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 348
حیات احمد ۳۴۸ جلد سوم وآلہ وسلّم نے مُكَلَّم مراد لئے ہیں۔یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔عن ابی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُوْنَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُوْنُوْا أَنْبِيَاءَ فَاِنْ يَّكُ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ اَحَدٌ فَعُمَرُ صحیح بخاری جلد اول صفحه ۵۲۱ پاره ۱۴ باب مَنَاقِبُ عُمَر تو پھر مجھے اپنے مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرا یہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔سو دوسرا پیرا یہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر جگہ سمجھ لیں اور اس کو ( یعنی لفظ نبی کو ) کاٹا ہوا خیال فرما لیں اور نیز عنقریب یہ عاجز ایک رسالہ مستقلہ نکالنے والا ہے۔جس میں ان شبہات کی تفصیل بقیہ حاشیہ سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔دراصل یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محدثیت اور نبوت پر بحث ہوئی تھی۔یہ مباحثہ محبوب رائیوں کے مکان متصل لنگے منڈی میں ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں حضرت عمرؓ کی محدثیت پر استدلال تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا۔اور بخاری خود بھیج دی۔مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ خود نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود نکال کر پیش کیا۔اور یہ حدیث صحیح بخاری پارہ ۱۴ حصہ اوّل بَابُ مَنَاقِب عمر میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ فِيْمَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُوْنَ مِنْ غَيْرِانْ يَكُوْنُوْا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَّكُ مِنْ أُمَّتِى مِنْهُمْ اَحَدٌ فَعُمَرُ *۔جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی تو فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہو گئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اسی پر مباحثہ ختم کر دیا۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا روایتوں میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق خاکسار ذاتی طور پر کچھ عرض نہیں کرتا کہ اصل حقیقت کیا ہے ہاں اس قدر درست ہے کہ نونِ ثقیلہ والی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر والے مباحثہ میں پیش آئی تھی اور بظاہر اس سے بخاری والے حوالہ کا جوڑ نہیں ہے۔پس اس حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دہلی والے مباحثہ کا نہیں ہے۔آگے رہا لا ہور اور لدھیانہ کا اختلاف سو اس کے متعلق میں کچھ عرض بخاری، کتاب فضائل أَصْحَابُ النَّبِيِّ صِلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَنَاقِبِ عُمَرَ