حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 31 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 31

حیات احمد جلد سوم مدرس عربی تھے۔صوفی مزاج اور ذی علم تھے۔دبلے پتلے منحنی سے آدمی تھے۔شیعہ فرقہ کے ایک مشہو ر عالم سید فرزند حسین صاحب اور منشی سعد اللہ صاحب نومسلم جو اہلحدیث تھے سب اسی مدرسہ میں ملازم تھے اور خوب مذہبی چرچے رہتے تھے مجھے سب جانتے تھے کہ میں مذہبی دلچسپی رکھتا اور عیسائیوں سے مباحثات کرتا رہتا ہوں اس لئے باوجود یکہ مولوی مشاق احمد صاحب اور منشی سعد اللہ صاحب میرے استاد تھے ان سے ایک قسم کی بے تکلفی بھی تھی اور حضرت مولوی محمد ابراہیم بقا پوری اور ان کے برادر مکرم محمد اسماعیل ان ایام کے واقف تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ ہم جو کچھ عرصہ کے بعد ایک ہی باپ کے روحانی فرزند ہونے والے تھے اسی زمانہ میں ایک رشتہ موڈت رکھتے تھے۔غرض مولوی عبدالقادر صاحب ان کو حضرت کے پاس لے آئے اور مولوی مشتاق احمد صاحب سے کہا کہ آپ کو جو دریافت کرنا ہو کر یں۔انہوں نے مسئلہ الہام کے متعلق سوال کیا مجھے خوب یاد ہے حضرت اقدس نے سورۃ الشمس پڑھ کر اس تفسیر کو حضرت نے توضیح المرام میں بھی لکھا ہے) مجلس پر ایک سکوت طاری تھا، اس کی تفسیر کی جب آپ نے تقریر ختم کی تو مولوی عبد القادر صاحب نے کہا کہ کچھ اور پوچھئے موقع ہے۔مگر مولوی مشتاق احمد صاحب خاموش رہے اور چلے گئے چونکہ وہ خود اپنا ایک صوفی مشرب رکھتے تھے اور بعض لوگ ان سے بیعت بھی کرتے تھے وہ حضرت کو قبول نہ کر سکے۔مگر خدا کا فضل ہے کہ آج انبیٹھہ میں جماعت احمدیہ قائم ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا وعظ ☆ اسی محلہ کی مسجد میں جہاں حضرت نمازیں پڑھتے تھے ایک روز بعد عصر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ پر تقریر فرمائی۔جو نہایت مؤثر اور معرفت کے نکات سے لبریز تھی جب وہ تقریر کر چکے تو مولوی شاہ دین صاحب جو چک مغلائی ضلع جالندھر کے باشندے اور اسی محلہ میں رہتے تھے اور بڑے منطقی مشہور تھے وہ اس تقریر میں موجود ل النحل : ٢٩