حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 32 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 32

حیات احمد ۳۲ جلد سوم تھے۔تقریر کے بعد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مسجد کی دیوار کے پاس جا کر ذرا استراحت کے طور پر کھڑے ہوئے تھے مولوی شاہ دین صاحب بڑے جوش سے آگے بڑھے اور کہا تم نے ائمہ سلف کے خلاف تفسیر کی ہے یہ تفسیر بالرائے ہے۔یہ ان کے کلام کا مفہوم اور قریباً لفظ بھی یہی تھے۔حضرت مولوی صاحب کی عمر ۳۰۔۳۱ برس کی تھی انہوں نے نہایت جوش کے ساتھ مولوی شاہ دین صاحب کو جواب دیا کہ تم قرآن کریم کی تفسیر کو کیا جانتے ہو؟ ساری عمر منطق وفلسفہ کی بے معنی بحثوں میں الجھنے والے قرآنِ کریم سے قطعاً ناواقف ہو۔جاؤ۔مجھ پر تمہاری بحثوں کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔اگر تم کو قرآن آتا ہے تو اس کی تفسیر بیان کرو۔مولوی شاہ دین پر اس قدر رعب پڑا کہ ایک لفظ وہ زبان سے نہ نکال سکے اور نہایت تیز رفتاری سے بھاگ گئے۔یہ با تیں ضمناً آ گئی ہیں۔ورود لودہانہ اور سفر ہوشیار پور حضرت اقدس مارچ کے اوائل میں یعنی دوسرے ہفتے کے شروع میں لو ہا نہ پہنچ گئے تھے اور بیعت کے لئے تاریخ کا اعلان پہلے ہو چکا تھا مگر اس اثنا میں شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے ہاں ایک شادی کی تقریب پر حضرت کو دعوت دی گئی تھی۔اس خاندان سے پرانے تعلقات تھے اور ۱۸۸۶ء کے سفر ہوشیار پور میں ان کے ہی طویلہ میں آپ نے قیام فرمایا تھا۔ان مراسم قدیم کی وجہ سے آپ نے ہوشیا پور کے سفر کا ارادہ فرمایا اس سفر کے متعلق خود حضرت نے حضرت حکیم الامت کو ایک خط لکھا جو حسب ذیل ہے۔مخدومی اخویم ، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته عنایت نامہ پہنچ کر بہت خوشی ہوئی۔خدا تعالیٰ آپ میں اور آپ کی نئی بیوی میں اتحاد اور محبت زیادہ سے زیادہ کرے۔اور اولا دصالح بخشے۔آمین ثم آمین اگر پرانے گھر والوں نے کچھ نا مناسب الفاظ منہ سے نکالے ہیں تو آپ صبر کریں۔پہلی