حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 30
حیات احمد کے متعلق خط بھیجا۔بفضلہ تعالیٰ بات قرار پا گئی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام معہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور دیگر احباب شادی کے لئے لودھیانہ تشریف لائے اور بعد نکاح معہ دلہن واپس تشریف لے گئے۔جلد سوم (ذکر حبیب از صاحبزادہ صاحب) اس کے بعد پھر حضور لودہانہ اسی اعلان بیعت کے سلسلہ میں آئے اور خلاف معمول آپ نے محلہ جدید میں حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کے مکان کے قریب ایک مکان کرایہ پر لیا۔اسی کو چہ میں خاکسار عرفانی رہتا تھا اور حضرت منشی احمد جان کے خاندان سے اس کو ارادت تھی۔میں اس کا ذکر اپنے بعض مضامین میں کر چکا ہوں خصوصیت سے حضرت صاحبزادہ افتخار احمد صاحب سے۔حضرت حکیم الامت سے انہیں ایام شادی میں ملاقات ہوئی اور وہ اس وقت اسی مکان میں قیام فرما تھے جو اب دار البیعت کہلاتا ہے۔شادی کے بعد حضرت حکیم الامت دوبارہ بیعت کرنے کیلئے آئے اور سیدہ صغریٰ بیگم صاحبہ سَلَّمَهَا الله تعالیٰ نے بھی بیعت کر لی۔سلسلہ کی خواتین میں حضرت ام الْمُؤْمِنِين ( مَتَّعَنَا اللَّهُ بِطُوْلِ حَيَاتِهَا ) کے سوا وہ سب سے پہلی خاتون ہیں جن کو شرف بیعت حاصل ہوا۔حضرت کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے رجسٹر میں ان کی تاریخ بیعت ۲۵ / مارچ ۱۸۸۹ء نمبر ۲۹ پر درج ہے۔ایام بیعت کے بعض واقعات خاکسار عرفانی اپنے تعلیمی مشاغل کے بعد اکثر وقت حضرت کی خدمت میں گزارتا تھا اس لئے کہ وہاں عموماً مختلف الخیال لوگ آتے تھے۔حضرت مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ ایک روز مولوی مشتاق احمد صاحب انبیٹھوی کو لے آئے۔مولوی عبدالقادر صاحب کو ان سے تعلقات اخوت اسلامی تھے۔مولوی مشتاق احمد صاحب خاکسار عرفانی کے استاد تھے اور مولوی عبدالقادر صاحب کا مدرسہ ( جو سرائے میں تھا) قریب ہی تھا مولوی مشتاق احمد صاحب بورڈ سکول میں