حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 328
حیات احمد ۳۲۸ جلد سوم ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملازم ریاست جموں کو آسمانی نشانوں کی طرف دعوت میرے مخلص دوست اور للہی رفیق اخویم حضرت مولوی حکیم نوردین صاحب فانی فی ابتغاء مرضات ربانی ملازم و معالج ریاست جموں نے ایک عنایہ نامہ مورخہ ۷/جنوری ۱۸۹۲ ء اس عاجز کی طرف بھیجا ہے جس کی عبارت کسی قدر نیچے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔خاکسار نابکار نورالدین بحضور خدام والا مقام حضرت مسیح الزمان سَلَّمَهُ الرَّحْمَن السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد بکمال ادب عرض پرواز ہے۔غریب نواز۔پریروز ایک عرضی خدمت میں روانہ کی اس کے بعد یہاں جموں میں ایک عجیب طوفان بے تمیزی کی خبر پہنچی جس کو بضرورت تفصیل کے ساتھ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں۔ازالہ اوہام میں حمد نوٹ۔حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرہ لکھتا ہوں غور سے پڑھنا چاہئے تا کہ معلوم ہو کہ کہاں تک رحمانی فضل سے اُن کو انشراح صدر وصدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں۔عالی جناب مرزا جی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو۔اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے طیار ہوں۔اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ نابکار ( مگر محب انسان ) چاہتا ہے کہ اس کام میں کام آوے۔“ تَمَّ كَلَامُهُ جَزَاهُ الله - حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ا تیار مال و عزت اور جانفشانی میں فانی ہیں۔وہ خود نہیں بولتے بلکہ ان کی روح بول رہی ہے۔در حقیقت ہم اسی وقت کچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے ان تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا - سرکہ نہ پائے عزیزش رود لے بار گران ست کشیدن بدوش کے ا النساء: ۵۹ سے وہ سر جو خدا کی راہ میں قربان نہ ہو وہ کندھوں پر بھاری بوجھ ہوتا ہے۔