حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 329 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 329

حیات احمد ۳۲۹ جلد سوم حضور والا نے ڈاکٹر جگن ناتھ کی نسبت ارقام فرمایا ہے کہ وہ گریز کر گئے اب ڈاکٹر صاحب نے بہت سے ایسے لوگوں کو جو اس معاملہ سے آگاہ تھے کہا ہے۔سیاہی سے یہ بات لکھی گئی ہے سرخی سے اس پر قلم پھیر دو میں نے ہرگز نہیں کیا اور نہ کسی نشان کی تخصیص چاہی مردہ کا زندہ کرنا میں نہیں چاہتا اور نہ خشک درخت کا ہرا ہونا یعنی بلا تخصیص کوئی نشان چاہتا ہوں جو انسانی طاقت سے بالا تر ہوئے۔اب ناظرین پر واضح ہو کہ پہلے ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے ایک خط میں نشانوں کو تخصیص کے ساتھ طلب کیا تھا جیسے مُردہ زندہ کرنا وغیرہ اِس پر اُن کی خدمت میں خط لکھا گیا کہ تخصیص نا جائز ہے۔خدائے تعالیٰ اپنے ارادہ اور اپنے مصالح کے موافق نشان ظاہر کرتا ہے اور جبکہ کرتا نشان کہتے ہی اس کو ہیں کہ جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو تو پھر تخصیص کی کیا حاجت ہے۔کسی نشان کے آزمانے کے لئے یہی طریق کافی ہے کہ انسانی طاقتیں اس کی نظیر پیدا نہ کر سکیں۔اس خط کا جواب ڈاکٹر صاحب نے کوئی نہیں دیا تھا۔اب پھر ڈاکٹر صاحب نے نشان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور مہربانی فرما کر اپنی اس پہلی قید کو اٹھا لیا ہے اور صرف نشان چاہتے ہیں کوئی نشان ہو مگر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو لہذا آج ہی کی تاریخ یعنی ۱۱ار جنوری ۱۸۹۲ء کو بروز، دوشنبہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں مکرراً دعوت حق کے طور پر ایک خط رجسٹری شدہ بھیجا گیا ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ اگر آ۔بلا تخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کے لئے تیار ہیں تو اخبارات ہے مندرجہ حاشیہ میں حلفاً اقرار اپنی طرف سے شائع کر دیں کہ میں جو فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں ریاست جموں میں بر عہدہ ڈاکٹری متعین ہوں اس وقت حلفاً اقرار صحیح سراسر نیک نیتی اور حق طلبی اور خلوص دل سے کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی تائید ،۔پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور اور ناظم الہند لا ہور اور اخبار عام لا ہور اور نورافشاں لدھیانہ۔