حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 29 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 29

حیات احمد ۲۹ جلد سوم اوّل یہ کہ ان کی حنفیت کے سوال کا کیا جواب دیا جائے۔دوسرے اگر اسی ربط پر رضامندی فریقین کی ہو جاوے تو لڑکی کے ظاہری حلیہ سے بھی کسی طور سے اطلاع ہو جانی چاہئے۔بہتر تو بچشم خود دیکھ لینا ہوتا ہے۔مگر آج کل کی پردہ داری میں یہ بڑی قباحت ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں ہوتے۔مجھ سے میر عباس علی صاحب نے اپنے سوالات مستنفسرہ خط کا بہت جلد جواب طلب کیا ہے۔اس لئے مکلف ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو جلد تر جواب ارسال فرماویں۔ابھی میں نے تصریح سے آپ کا نام ان پر ظاہر نہیں کیا جواب آنے پر ظاہر کروں گا۔ہندو پسر کے بارے میں مجھے خیال ہے ابھی میں نے توجہ نہیں کی کیونکہ جس روز سے میں آیا ہوں میری طبیعت درست نہیں ہے علالت طبع کچھ نہ کچھ ساتھ چلی آتی ہے اور کثرت مشغولی علاوہ۔لیکن اگر میں نے کسی وقت توجہ کی اور آپ کی رائے کے موافق یا مخالف کچھ ظاہر ہوا جس کی مجھے ہنوز کچھ خبر نہیں تو بہر حال آپ پر اس کے موافق عمل کرنا واجب ہوگا۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۶٬۵۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) نوٹ۔مکتوبات میں ۲۳ / جنوری ۱۸۸۸ء غلط چھپا ہے یہ ۱۸۸۹ء کا خط ہے اور فروری ۱۸۸۹ء میں نکاح ہو گیا اور سیدہ صغری بیگم صاحبہ بفضلہ تعالیٰ اس وقت تک زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو بابرکت فرمایا۔یہ ذکر ضمناً اس لئے آگیا کہ آپ نے حضرت حکیم الامت کو بیعت کے لئے تاریخ مقررہ پر نہ آسکنے کی وجہ سے تقریب شادی پر بیعت کرنے کیلئے لکھا تھا لیکن یہ شادی مارچ کے اوائل میں ہوگئی۔حضرت اقدس خود شادی میں آئے اور تشریف لے گئے جیسا کہ حضرت صاحبزادہ افتخار احمد صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔”یہی زمانہ (بیعت کا زمانہ مراد ہے ) میری ہمشیرہ صغری بیگم کی شادی کا ہے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت خلیفتہ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ کے رشتہ