حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 295
حیات احمد ۲۹۵ جلد سوم دوسری کا ترجمہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے موجود تھا۔گویا بخاری نے دونوں آیتوں کو جو دو مختلف مقام پر ہیں ایک جگہ جمع کر کے اپنا مذہب ظاہر کر دیا کہ ان دونوں آیتوں سے مسیح کی موت ثابت ہے اور کچھ نہیں۔پھر تمام صحیح بخاری کو اوّل سے آخر تک ایک ایک لفظ کر کے پڑھا اس میں بھی سوائے موت کے حیات کا کوئی لفظ اشارتاً یا کنایہ نہ نکلا پھر میں نے صحیح مسلم وغیرہ کل کتب احادیث لفظاً دیکھیں اور خوب غور سے ایک ایک سطر اور ایک ایک حرف پڑھا لیکن کہیں بھی مسیح کی حیات نہ نکلی سوائے موت کے، رہی نزول کی حدیثیں۔ان میں کہیں نزول مِنَ السَّمَاء نہیں ہے۔نزول سے حیات کو کیا تعلق جب حیات و رَفَعَ إِلَى السَّمَاء ہی ثابت نہیں تو پھر نزول کیسا ہے۔نزیل مسافر کو بھی کہتے ہیں جیسا کہ میں نے اب دہلی میں نزول کیا۔ابھی آپ کی تقریر ختم نہ ہوئی تھی کہ مولوی محمد بشیر گھبرا کر بول اٹھے کہ آپ اجازت دیں تو میں اس دالان کے پر لے کو نہ میں جا بیٹھوں۔اور وہاں کچھ لکھوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ بہت اچھا آپ جہاں چاہیں بیٹھیں۔پس مولوی صاحب پر لے کو نہ میں جا بیٹھے۔اور مجد دعلی خاں سے مضمون لکھوانے لگے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ شرط اس بات پر ٹھہری تھی کہ قریب بیٹھ کر خود اپنے اپنے قلم سے اسی وقت سوال و جواب کے طور پر لکھیں گے۔لیکن مولوی صاحب دور جا کر کسی اور سے لکھوانے لگے۔میں نے عرض کیا کہ میں مولوی صاحب سے کہہ دوں آپ نے فرمایا۔خیر جانے دو۔اور لکھنے دو یا لکھوانے دو۔مولوی بشیر صاحب نے بھوپال جا کر حضرت مولوی محمد احسن صاحب سے سلسلہ مراسلات شروع کیا۔اور انہوں نے مولوی صاحب کے مباحثہ پر زبردست تنقید کی جو الحق دہلی میں شائع ہو چکی۔