حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 296
حیات احمد ۲۹۶ دہلی سے براہ پٹیالہ واپسی جلد سوم مولوی محمد بشیر صاحب کے مباحثہ کے بعد آپ نے واپسی کا عزم فر مایا دہلی پر اتمام حجت ہو چکا اور کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ مقابلہ میں آتا۔اس میں کچھ شک نہیں لاف گذاف کا سلسلہ خوب جاری رہا۔مگر نہ تو مباحثہ کی ہمت ہوئی اور نہ بالمقابل قسم کھانے کی جرات اتمام حجـــت کے بعد آپ نے واپسی کا عزم فرمایا اور چونکہ حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ ان ایام میں پٹیالہ تبدیل ہو چکے تھے۔آپ نے چند روز کے لئے پٹیالہ قیام فرمانے کا عزم فرمایا۔پٹیالہ کی اہمیت پٹیالہ کو سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت ہے اس لئے کہ جب براہین احمدیہ کی اشاعت ہو رہی تھی اس وقت ہندوستان کے جن رؤسا کو اس نیک کام میں حصہ لینے کی توفیق ملی ان میں سے ریاست پٹیالہ کے وزیر اعظم خلیفہ سید محمد حسن خاں صاحب مرحوم بھی پیش پیش تھے اور اس کتاب کی اشاعت پر اُن کے دل میں حضرت کے لئے ادب اور احترام کے جذبات تھے ایک مرتبہ جب آپ کو اس سے پہلے وہاں جانے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے اہتمام اور احترام کے ساتھ آپ کا استقبال کیا تھا۔جَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاء پٹیالہ کی جماعت اس وقت پٹیالہ میں کوئی بڑی جماعت تو تھی نہیں ہاں بعض سلیم الفطرت قریب آ رہے تھے اور بعض داخل سلسلہ بھی ہو چکے تھے مگر یہ سَابِقُونَ الأَوَّلُون کی جماعت کے افراد زیادہ تر سنور کی جماعت کے لوگ تھے اور سامانہ کے، ریاست پٹیالہ کے بعض دوسرے مواضعات کے احباب بھی تھے خاص پٹیالہ میں چند بزرگ تھے۔چونکہ سنور کی جماعت کے افراد پٹیالہ ہی میں ملازم تھے اس لئے یہ سب جماعت پٹیالہ کے ہی رکن تھے۔