حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 294 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 294

حیات احمد ۲۹۴ جلد سوم تھی اور نہ میں نے پچیس برس کے عرصہ کی صحبت میں کسی کے ساتھ معانقہ کرتے دیکھا۔مولوی صاحب خود حضرت اقدس سے لپٹ گئے چونکہ بشیر صاحب کا بہت ہی چھوٹا قد تھا۔کمر تک رہے اور آپ ہی علیحدہ ہو گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے معانقہ نہیں کیا سیدھے کھڑے رہے اور دونوں ہاتھ بھی سید ھے لٹکائے رکھے پھر حضرت اقدس علیہ السلام اور مولوی محمد بشیر صاحب دونوں بیٹھ گئے اور ہم سب اور مولوی صاحب کے ہمراہی بھی بیٹھ گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی محمد بشیر اور ان کے ہمرائیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا :- ”مولوی صاحب مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سچا ہے جیسا کہ اور انبیاء کا دعویٰ نبوت ورسالت سچا ہوتا تھا۔اس دعویٰ کی بناء یہ ہے کہ کئی ماہ تک مجھے متواتر الہام ہوتے رہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو گئے اور جس مسیح موعود کا آنا مقدر تھا وہ تو ہے۔مجھ کو کشف، الہام سے رویا سے متواتر بتلایا گیا۔سمجھایا گیا۔جب بھی میں اس کو یقینی نہیں سمجھا۔لیکن کئی ماہ کے بعد جب یہ امر تو اتر اور پورے یقین اور حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گیا تو میں نے قرآن شریف کھولا اور خیال کیا کہ اس اپنے الہام وغیرہ کو کتاب اللہ پر عرض کرنا چاہئے۔قرآن شریف کھولتے ہی سورہ مائدہ کی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی نکل آئی میں نے اس پر غورو فکر کیا تو اپنے الہامات اور کشوف ورد یا کو سیج پایا۔اور مجھ پر کھل گیا اور ثابت ہو گیا کہ بے شک مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے۔پھر میں نے اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو خوب تدبر اور غور سے پڑھا تو سوائے وفات مسیح کے حیات کا پتہ مسیح علیہ السلام کی نسبت کچھ نہ نکلا۔پھر میں نے صحیح بخاری کھولی۔خدا کی قدرت کھولتے ہی کتاب التفسیر میں دو آیتیں ایک انِي مُتَوَفِّيكَ اور دوسری فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى آئیں۔ایک کا ترجمہ مُمِيْتُكَ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور حمد سید امیر علی شاہ ۳۱ المائدة: ۱۱۸ ال عمران: ۵۶