حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 289 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 289

حیات احمد ۲۸۹ جلد سوم آپ سے معانقہ کے لئے لپٹ گئے۔حضرت تو اس کے عادی نہ تھے صاحبزادہ سراج الحق صاحب بیان کرتے تھے کہ حضرت کھڑے رہے اور مولوی صاحب لیٹے رہے اور مولوی صاحب آخر بیٹھ گئے اور حضرت اقدس بھی تشریف فرما ہوئے۔میں نے اس واقعہ کو اس لئے نقل کیا ہے کہ مجھ پر ان کے متعلق بھی اثر تھا کہ وہ اندر سے مخالفت کا جذ بہ نہیں رکھتے وہ اب مر چکے۔وَاللهُ 690 حَسِيْبة پھر جب ۱۹۰۵ء میں حضرت اقدس دہلی تشریف لے گئے میں بھی ساتھ تھا مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی نے مولوی بشیر صاحب کو ملاقات کے لئے ایک خط لکھا اور میں خود وہ خط لے کر گیا۔مولوی صاحب نے حکوت ہی میں مجھے کہا کہ اس وقت ملاقات مصلحت کے خلاف ہے۔میری طرف سے بہت بہت سلام دیا جائے اور میری معذوری پر معافی طلب کی جائے۔میں نے ان میں شوخی اور گستاخی نہ پائی تھی۔انہیں ایام میں کچھ خطوط اور رقعہ جات ان کو لکھے گئے تھے۔میں عزیز مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کے لئے بہت دعا کرتا ہوں کہ انہوں نے ان رقعہ جات کو مخالفین کے لٹریچر میں سے لے کر محفوظ کر دیا۔جَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء ( عرفانی الكبير ) مباحثہ کی تحریک جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے مباحثہ کی تحریک خود مولوی بشیر صاحب کی طرف سے ہوئی تھی جسے حضرت اقدس نے بخوشی منظور کر لیا تھا۔حاشیہ۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر اس خط و کتابت کو بھی درج کر دیا جائے جو اس مباحثہ کے متعلق ہوئی اور اگر چہ یہ خط و کتابت رسالہ الحق الصریح میں شائع ہوئی تھی مگر سلسلہ کے لٹریچر میں نہ آئی تھی اور یہ مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کی تحقیق و تلاش سے محفوظ ہوئی۔جَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔نمبرا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مکر می اخویم مولوی احمد صاحب سَلَّمَة السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔حسب استفسار آپ کے عرض کیا جاتا ہے کہ مجھے حضرت محمد بشیر صاحب سے مسئلہ حیات و وفات مسیح ابن مریم میں بحث کرنا بدل و جان منظور ہے۔پہلے بہر حال