حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 288
حیات احمد ۲۸۸ جلد سوم خود اہلِ حدیث تھے اس لئے انہوں نے مشہور علماء اہل حدیث کو اپنے سلسلہ تالیف کے لئے جمع کر لیا تھا چنانچہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی بھی اسی ذیل میں تھے اور مولوی بشیر صاحب سے ان کے گہرے تعلقات تھے۔مولوی بشیر صاحب ایک پستہ قد گندم گوں تھے اس میں کچھ شبہ نہیں علوم عربیہ درسیہ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے جب اپنے دعویٰ مسیحیت کا اعلان فرمایا تو مولوی بشیر اور مولانا سید محمد احسن صاحب میں خلوت میں تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔مولوی سید محمد احسن صاحب اثبات دعوی کا پہلو لیتے تھے اور مولوی بشیر صاحب اس پر اعتراض کرتے تھے مگر یہ مناظرہ مخالفت کے لئے نہ تھا بلکہ احقاق حق کے لئے۔آخر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ حضرت اپنے دعوی میں صادق ہیں۔مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب نے اخلاقی جرات سے کام لے کر بیعت کر لی مگر مولوی بشیر صاحب متامل رہے۔جب بھوپال کا سلسلہ ملازمت ختم ہو گیا تو مولوی صاحب بھوپال سے دہلی آ کر جماعت اہل حدیث کے امام ہو گئے اور یہ چیز اُن کی راہ میں روک ہو گئی۔۱۸۹۱ء کی آخری سہ ماہی میں حضرت اقدس لودھانہ سے دہلی تشریف لے گئے۔جب مولوی سید نذیر حسین صاحب جو شیخ الکل کہلاتے تھے مقابلہ اور مباحثہ کے لئے نہ آئے۔حیلہ سے اس پیالہ کو ٹلا دیا تو لوگوں نے مولوی بشیر صاحب کو بحث پر آمادہ کیا جہاں تک حقیقت ہے کہ وہ گڑھا آمادہ ہوئے۔ان کے مباحثہ کے حالات رسالہ الحق دہلی (سیالکوٹ ) میں شائع ہو گئے۔مولوی صاحب آنے کو تو میدان میں آئے مگر نون ثقیلہ کی بحث میں الجھ کر رہ گئے۔جہاں تک میرا ذاتی علم ہے مولوی بشیر صاحب ایسے مخالف نہ تھے جیسے محمد حسین بٹالوی وغیرہ بلکہ وہ کسی قدر ادب حضرت کا ملحوظ رکھتے تھے اُن پر صداقت کھل چکی تھی۔مگر بعض دوسرے معاشی اسباب اُن کی راہ میں روک تھے۔چنانچہ جب مباحثہ کے لئے حضرت اقدس کی قیام گاہ پر آئے۔اپنے آنے کی اطلاع کی تو حضرت اقدس بالا خانہ سے نیچے آئے اور مولوی صاحب نے آگے بڑھ کر مودبانہ السّلام علیکم کہا اور بے اختیار