حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 290 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 290

حیات احمد ۲۹۰ جلد سوم یه مباحثه ۲۳ / اکتوبر ۱۸۹۱ ء مطابق ۱۹ ؍ ربیع الاول ۱۳۰۹ھ شروع ہوا اور تین پرچے مولوی محمد بشیر صاحب کے ہوئے اور تین ہی پرچے حضرت اقدس نے لکھے اور آخری پر چہ میں تحریری بحث جاری رکھنے کا بھی اظہار فرمایا مگر یہ کہ جب تحریری بحث ہے تو میرا یا آپ کا دہلی میں مقیم رہنا ضروری نہیں جبکہ تحریری بحث ہے تو دور رہ کر بھی ہو سکتی ہے۔میں مسافر ہوں اب مجھے زیادہ اقامت کی گنجائش نہیں اس طرح یہ مباحثہ ختم ہو گیا۔اور مولوی محمد بشیر صاحب بھوپال چلے گئے۔اور انہوں نے اپنے رفیق قدیم حضرت مولوی محمد احسن صاحب سے مراسلت شروع کی۔اور وہ مراسلت بھی الحق دہلی کا ایک حصہ ہے۔مولوی محمد بشیر صاحب کا یہ اقدام حقیقت میں قابل احترام ہے کہ جس پیالہ کو علماء ٹال رہے بقیہ حاشیہ۔یہی ہوگی۔بعد اس کے حضرت مولوی صاحب اُن کے نزول کے بارے میں بھی بحث کر لیں۔بحث تحریری ہوگی۔ہر ایک فریق سوال یا جواب لکھ کر حاضرین کو سنا دے گا۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ۔۱۵ راکتو بر ۱۸۹۱ء نمبر ۲۔مجھے یہ منظور ہے کہ اول حضرت مسیح ابن مریم کی وفات و حیات کے بارے میں بحث ہو اس بحث کے تصفیہ کے بعد پھر ان کے نزول اور اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں مباحثہ کیا جائے۔اور جو شخص طرفین میں سے ترک بحث کرے گا۔اس کا گریز سمجھا جائے گا۔(الحق الصریح صفحه ۲۵) نوٹ۔مولوی محمد بشیر کے ایک اعلان کے جواب میں رقم فرمایا تھا جو ان کے شائع کردہ مباحثہ دہلی بنام الحق الصریح فی اثبات حیات اسیح صفحہ ۲۵ پر درج ہے مگر اس کے نیچے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دستخط یا نام نہیں لکھا گیا۔نمبر ۳۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب سَلَّمَهُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَة الله وَبَرَكَاتُهُ - مجھے آپ کی تشریف آوری سے بہت خوشی ہوئی اور خط آمدہ اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب سے آپ کے اخلاق اور متانت اور تہذیب کا حال معلوم ہو کر دل پہلے ہی مشتاق ہو رہا تھا کہ مسئلہ میں آپ سے اظہارًا لِلْحَق بحث ہو سو الحمد للہ آپ تشریف لے آئے مجھے آج بوجہ ضروریات فرصت نہیں۔کل انشاء القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں گا۔لیکن بحث تحریری ہوگی تاہر ایک فریق کا بیان محفوظ رہے اور دور دست لوگوں کو بھی رائے لگانے کا موقعہ مل سکے۔سب سے پہلے مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث ہو گی۔حیات مسیح علیہ السلام کا آپ کو ثبوت دینا ہو گا۔