حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 287
حیات احمد ۲۸۷ مولوی بشیر بھوپالی سے مباحثہ جلد سوم حضرت اقدس نے اشتہار مورخہ ۲۳ / اکتوبر ۱۸۹۱ء کے ذریعہ اتمام حجت کر دی۔ا مباحثہ کے تفصیلی حالات تو پنجاب گزٹ سیالکوٹ مورخہ ۱۴/ نومبر ۱۸۹۱ء میں مکرم فصیح صاحب مرحوم نے شائع کر دیئے تھے۔اور تحریر میں الحق میں شائع ہو چکی ہیں۔شیخ الکل مولوی نذیرحسین صاحب کا مباحثہ اور مباہلہ سے گریز عام طور پر محسوس کیا گیا اور اہلحدیث حضرات نے خصوصاً اس لئے کوشش کی کہ مسئلہ حیات و وفات مسیح پر ضرور مباحثہ ہونا چاہئے۔اس مقصد کے لئے مولانا محمد بشیر صاحب بھوپالی کو منتخب کیا گیا اور انہیں بلایا گیا۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولوی بشیر صاحب کے متعلق ایک تعارفی نوٹ دیا جائے۔مولوی محمد بشیر صاحب خاکسار عرفانی الکبیر کو مولوی محمد بشیر صاحب سے ذاتی نیاز کی عزت بھی حاصل ہے جیسا کہ اس تعارفی نوٹ سے معلوم ہو گا۔مولوی محمد بشیر صاحب سے مباحثہ کی تحریک خود مولوی صاحب کی طرف سے ہوئی۔ان کے رفقائے کار میں ایک مولوی محمد احمد صاحب تھے جیسے مولوی سید نذیرحسین صاحب کو مولوی عبدالمجید اور مولوی محمد حسین بٹالوی ملے ہوئے تھے مولوی بشیر صاحب میں یہ عجیب و غریب خصوصیت تھی کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے طریقوں سے واقف تھے اس کا ذکر شاید بعد میں آئے۔مولوی بشیر صاحب سے مباحثہ کی تحریک انہی صاحب نے کی تھی جیسا کہ آگے آئے گا۔مولوی بشیر صاحب کے تعارف کے لئے مختصراً لکھتا ہوں۔مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی دراصل سہوان کے باشندے تھے اور بہ سلسلہ ملازمت بھوپال میں نواب صدیق حسن خاں صاحب کے علماء کے زمرہ میں ملازم تھے چونکہ نواب صاحب