حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 248
حیات احمد ۲۴۸ غور سے دیکھیں اور ان مولوی صاحبوں کی باتوں پر نہ جائیں۔ساٹھ جزو کی کتاب ہے۔اور یقیناً سمجھو کہ معارف اور دلائل یقینیہ کا اس میں ایک دریا بہتا ہے۔صرف سے (تین روپے) قیمت ہے۔اور واضح ہو کہ یہ درخواست مولوی سید نذیر حسین صاحب کی کہ مسیح موعود ہونے کا ثبوت دینا چاہئے۔اور اس میں بحث ہونی چاہئے بالکل تحكّم اور خلاف طریق انصاف اور حق جوئی ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود ہونے کا اثبات آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہو گا۔اور آسمانی نشانوں کو بجز اس کے کون مان سکتا ہے کہ اوّل اس شخص کی نسبت جو کوئی آسمانی نشان دکھاوے یہ اطمینان ہو جاوے کہ وہ خلاف قَالَ الله وَقَالَ الرَّسُول کوئی اعتقاد نہیں رکھتا ، ورنہ ایسے شخص کی نسبت جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے ولایت کا گمان ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھاوے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بھی اپنے لمبے اشتہار میں جولدھیانہ میں چھپوایا تھا اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں۔اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لائق وہی امر ہے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن اور حدیث اس دعوے کے مخالف ہیں اور وہ امر مسیح ابن مریم کی وفات کا مسئلہ ہے کیونکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر در حقیقت قرآنِ کریم اور احادیث صحیحہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دکھاوے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں ہوں گے کیونکہ قرآن ان کے مخالف شہادت دیتا ہے غایت کار وہ استدراج سمجھے جائیں گے۔لہذا سب سے اول بحث جو ضروری ہے مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے جس کا طے ہو جانا ضروری ہے کیونکہ مخالف قرآن و حدیث کے نشانوں کا ماننا مومن کا کام نہیں۔ہاں ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث سے کچھ غرض نہیں جلد سوم