حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 249
حیات احمد ۲۴۹ جلد سوم رکھتے۔فَاتَّقُو اللَّهَ أَيُّهَا الْعُلَمَاء وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔مرزا غلام احمد از دیلی بازار یکی ماراں کوٹھی نواب لوہارو ۶ اکتوبر ۱۸۹۱ء حاشیہ کی عبارت۔بالاخر تمام عذرات نا معقول کے توڑنے اور اتمام حجت کی غرض سے یہ بھی ہم بطریق تنزل لکھتے ہیں کہ اگر مولوی سید نذیر حسین صاحب کسی افسر انگریز کے جلسہ بحث مامور کرانے سے ناکام رہیں تو اس صورت میں ایک اشتہار شائع کر دیں۔جس میں حلفاً اقرار ہو کہ ہم خود قائمی امن کے ذمہ وار ہیں۔کوئی شخص حاضرین جلسہ میں سے کوئی کلمہ خلاف تہذیب اور شرارت کا منہ پر نہیں لائے گا اور نہ آپ تو ہین استخفاف اور استکبار کے کلمات منہ پر لائیں گے۔بلکہ سراسر عاجزی اور انکسار اور تواضع سے تحریری بحث کریں گے۔اور کوئی عوام وخواص میں سے کوئی خلاف تہذیب و ادب کوئی کلمہ منہ پر لاوے تو فی الفور اُسے مجلس سے نکال دیں گے۔اس صورت میں یہ عاجز مولوی صاحب کی مسجد میں بحث کے لئے حاضر ہو سکتا ہے۔مگر دوسری تمام شرطیں اشتہا ر ۲ اکتوبر کی قائم رہیں گے۔مطبوعہ مطبع اخبار خیر خواه هند دہلی ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۱۹ تا ۲۲۱ طبع بار دوم )