حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 247 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 247

حیات احمد ۲۴۷ بھی درج کیا تھا مگر عند الملاقات اور باہم گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب موصوف ایک گوشہ گزین آدمی ہیں اور ایسے جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق شقاق کا اندیشہ ہے طبعا گارہ ہیں اور اپنے کام تفسیر قرآن کریم میں مشغول ہیں اور شرائط اشتہار کے پورا کرنے سے مجبور ہیں کیونکہ گوشتہ گزین ہیں۔حکام سے میل ملاقات نہیں رکھتے اور بباعث درویشانہ صفت کے ایسی ملاقاتوں سے کراہت بھی رکھتے ہیں لیکن مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگر د بٹالوی صاحب جو اب دہلی میں موجود ہیں ان کاموں میں اول درجہ کا جوش رکھتے ہیں۔لہذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہیں اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے اُس کی زندگی ثابت کر سکتے ہیں تو میرے ساتھ بپابندی شرائط مندرجہ اشتہار ۲ /۱ کتوبر ۱۸۹۱ء بالاتفاق بحث کر لیں۔اور اگر انہوں نے بقبول شرائط اشتہار ۲ / اکتوبر ۱۸۹۱ء بحث کے لئے مستعدی ظاہر نہ کی اور پوچ اور بے اصل بہانوں سے ٹال دیا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کو قبول کر لیا۔بحث میں امرتنقیح طلب یہ ہوگا کہ آیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہی مسیح ابن مریم جس کو انجیل ملی تھی اب تک آسمان پر زندہ ہے اور آخری زمانے میں آئے گا۔یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت فوت ہو چکا ہے اور اس کے نام پر کوئی دوسرا اسی امت میں سے آئے گا۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہی مسیح ابن مریم زنده بجسده العنصری آسمان پر موجود ہے تو یہ عاجز دوسرے دعوی سے خود دست بردار ہو جائے گا۔ورنہ بحالت ثانی بعد اس اقرار کے لکھانے کے کہ در حقیقت اسی امت میں سے مسیح ابن مریم کے نام پر کوئی آنے والا ہے۔یہ عاجز اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دے گا۔اور اگر اس اشتہار کا جواب ایک ہفتہ تک مولوی صاحب کی طرف سے شائع نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے گریز کی اور حق کے طالبوں کو محض نصیحتاً کہا جاتا ہے کہ میری کتاب ازالہ اوہام کو خود جلد سوم