حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 245
حیات احمد ۲۴۵ جلد سوم اگر مسیح ابن مریم کی حیات طریقہ، مذکورہ بالا سے جو واقعات صحیحہ کو معلوم کرنے کے لئے خیر الطرق ہے، ثابت ہو جائے تو میں اپنے الہام سے دست بردار ہو جاؤں گا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ قرآن کریم سے مخالف ہو کر کوئی الہام صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔پس کچھ ضرور نہیں کہ میرے مسیح موعود ہونے میں الگ بحث کی جائے۔بلکہ میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں ایسی بحث وفات عیسی میں غلطی پر نکلا تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا۔اور ان تمام نشانوں کی پروا نہیں کروں گا جو میرے اس دعویٰ کے مصدق ہیں کیونکہ قرآن کریم سے کوئی حجت بڑھ کر نہیں۔وَمَا عِنْدَنا شَيْءٌ الَّا كِتَابَ اللَّهِ - فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَآلِتِهِ يُؤْمِنُونَ۔میں ایک ہفتہ تک اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد حضرات موصوفہ کے جواب باصواب کا انتظار کروں گا۔اور اگر وہ شرائط مذکورہ بالا کو منظور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ چاہیں میں حاضر ہو جاؤں گا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعُ الْهُدَى اور کتاب ازالہ اوہام کے خریداروں پر واضح ہو کہ میں لکی ماروں کے بازار میں کوٹھی لوہارو والی میں فروکش ہوں اور ازالہ اوہام کی جلدیں میرے پاس موجود ہیں۔جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں۔وہ خرید سکتے ہیں۔والسلام المشتهـ خاکسار غلام احمد قادیانی حال وارد دہلی ، بازار یکی ماراں کوٹھی نواب لوہارو ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۲۱۴ تا ۲۱۸ طبع بار دوم ) النساء : ٢٠ الجاثية