حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 244 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 244

حیات احمد ۲۴۴ خیال کرتے ہیں یا ملحد اور ماؤل تصور فرماتے ہیں اور میرے قول کو خلاف قال اللہ قال الرسول گمان کرتے ہیں تو حضرات موصوفہ پر فرض ہے کہ عامہ خلایق کو فتنہ سے بچانے کے لئے اس مسئلہ میں اسی شہر دہلی میں میرے ساتھ بحث کر لیں۔بحث میں صرف تین شرطیں ہوں گی۔(۱) اوّل یہ کہ امن قائم رہنے کے لئے وہ خود سرکاری انتظام کراویں۔یعنی ایک افسر انگریز مجلس بحث میں موجود ہو کیونکہ میں مسافر ہوں اور اپنی عزیز قوم کا مورد عتاب اور ہر طرف سے اپنے بھائیوں مسلمانوں کی زبان سے سبّ اور لعن و طعن اپنی نسبت سنتا ہوں۔اور جو شخص مجھ پر لعنت بھیجتا ہے اور مجھے دجال کہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ آج میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے۔لہذا میں بجز سرکاری افسر کے درمیان ہونے کے اپنے بھائیوں کی اخلاقی حالت پر مطمئن نہیں ہوں۔کیوں کہ کئی مرتبہ تجربہ کر چکا ہوں وَلَا يُلْدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ - (۲) دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو ہر ایک فریق مجلس بحث میں اپنے ہاتھ سے سوال لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے۔اور ایسا ہی فریق ثانی لکھ کر جواب دیوے۔کیونکہ زبانی بیانات محفوظ نہیں رہ سکتے۔اور نقل مجلس کرنے والے اپنی اغراض کی حمایت میں اس قدر حاشیے چڑھا دیتے ہیں کہ تحریف کلام میں یہودیوں کے بھی کان کاٹتے ہیں۔اس صورت میں تمام بحث ضائع ہو جاتی ہے اور جو لوگ مجلس بحث میں حاضر نہیں ہو سکے ان کو رائے لگانے کے لئے کوئی صحیح بات ہاتھ نہیں آتی ، ماسوا اس کے صرف زبانی بیان میں اکثر مخاصم بے اصل اور کچی با تیں منہ پر لاتے ہیں لیکن تحریر کے وقت وہ ایسی باتوں کے لکھنے سے ڈرتے ہیں تا وہ اپنی خلاف واقعہ تحریر سے پکڑے نہ جائیں اور ان کی علمیت پر کوئی دھبہ نہ لگے۔(۳) تیسری شرط یہ کہ بحث وفات ، حیات مسیح میں ہو۔اور کوئی شخص قرآن کریم اور کتب حدیث سے باہر نہ جائے ، مگر صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے اور بخاری کو مسلم پر کیونکہ وہ اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ ہے۔اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ جلد سوم