حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 243 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 243

حیات احمد ۲۴۳ نشان بھی بیان کئے ہیں۔اور قرآن کریم کے حقائق و معارف اس میں بکثرت درج ہیں۔اور وہ باتیں اس میں ہیں جو انسانوں کی علم اور طاقت سے بڑھ کر ہوتی ہیں جو شخص اس کو اوّل سے آخر تک بغور و انصاف پڑھے گا اُس کا نور قلب بلاشبہ شہادت دے گا کہ اس کتاب کے بہت سے مرقومات صرف الہی طاقت سے لکھے گئے ہیں۔اور یہ وہی کتاب ہے جس کی نسبت رسالہ توضیح مرام میں نصیحتاً لکھا گیا تھا کہ اس کے دیکھنے سے پہلے کوئی صاحب مخالفانہ تحریر شائع نہ کریں۔سواب وہ بھی بفضلہ تعالیٰ طیار ہوگئی ہے۔اور خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ سچائی کی حجت اپنی اس مخلوق پر پوری کرے جو سچائی سے روگردان ہے۔مع ہذا چونکہ میں اس وقت اس شہر دہلی میں وارد ہوں اور افواہ سنتا ہوں کہ اس شہر کے بعض علماء جیسے حضرت سید مولوی نذیرحسین صاحب اور جناب مولوی ابو محمد عبد الحق صاحب اس عاجز کی تکذیب و تکفیر کے درپے ہیں اور الحاد اور ارتداد کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اگر چہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ روایتیں کہاں تک صحیح ہیں۔صرف لوگوں کی زبان سے سنا ہے وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب لیکن إِثْمَامًا لِلْحُجَّة حضرات موصوفہ کی خدمت میں میں گزارش کرتا ہوں کہ معجزات و لیلة القدر و وجود ملائکه و وجود جبرائیل و معراج نبوی وغیرہ تعلیمات قرآن کریم و احادیث صحیحہ پر تو ایمان ہے اور مجھے محدثیت کا دعوی ہے نہ نبوت تامہ کا۔اور ان سب باتوں میں اپنے بھائی مسلمانوں کے ساتھ مجھے کچھ اختلاف نہیں۔ہاں اصل عقائد مذکورہ بالا و مسلم رکھ کر جو اور اور باتیں از قبیل اسرار وحقائق و معارف وعلوم حکمیہ و دقایق بطونِ قرآن کریم ہیں وہ مجھ پر جیسے جیسے الہام کے ذریعہ سے کھلتے ہیں ان کو بیان کر دیتا ہوں جن کا اصل عقائد سے کچھ بھی تعارض نہیں۔ہاں حیات مسیح ابن مریم کی نسبت مجھے انکار ہے۔سو یہ انکار صرف الہام الہی پر مبنی ہے بلکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ میرے اس الہام کی شاہد کامل ہیں۔اگر حضرت سید مولوی محمد نذیر حسین صاحب یا جناب مولوی ابومحمد عبد الحق صاحب مسئلہ وفات مسیح میں مجھے مُخطی جلد سوم