حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 205
حیات احمد ۲۰۵ بذریعہ الہام مجھے یقینی طور پر سمجھایا گیا ہے صرف اتنا ہے کہ قرآن شریف اور حدیث میں میرے آنے کی خبر دی گئی ہے۔میں اس سے ہرگز انکار نہیں کرسکتا اور نہ کروں گا که شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہوا اور شاید یہ پیشنگوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری طور پر اُس پر جمتی ہوں۔اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔لیکن یہ میرے پر کھول دیا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم جن پر انجیل نازل ہوئی تھی فوت ہو چکا ہے۔اور بیٹی کی روح کے ساتھ اس کی روح دوسرے آسمان میں اور اپنے سماوی مرتبہ کے موافق بہشت بریں کی سیر کر رہی ہے۔اب وہ روح بہشت سے بموجب وعدہ الہی کے جو بہشتیوں کے لئے قرآن شریف میں موجود ہے نکل نہیں سکتی۔اور نہ دو موتیں اُن پر وارد ہو سکتی ہیں۔ایک موت جو اُن پر وارد ہوئی وہ تو قرآن شریف سے ثابت ہے۔اور ہمارے اکثر مفسر بھی اس کے قائل ہیں۔اور ابن عباس کی حدیث سے بھی اس کا ثبوت ظاہر ہے اور انجیل میں بھی لکھا ہے اور نیز توریت میں بھی۔اب دوسری موت ان کے لئے تجویز کرنا خلاف نص وحدیث ہے۔وجہ یہ کہ کسی جگہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دو مرتبہ مریں گے۔یہ تو میرے الہامات اور مکاشفات کا خلاصہ ہے جو میرے رگ وریشہ میں رچا ہوا ہے اور ایسا ہی اس پر ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ کتاب اللہ پر اور اسی اقرار اور انہی لفظوں کے ساتھ میں مباہلہ بھی کروں گا۔اور جو لوگ اپنے شیطانی اوہام کو ربانی الہام قرار دے کر مجھے جہنمی اور ضال قرار دیتے ہیں ایسا ہی اُن سے بھی اُن کے الہامات کے بارہ میں اللہ جل شانہ کی حلف لوں گا۔کہاں تک انہیں اپنے الہامات کی یقینی معرفت حاصل ہے۔مگر بہر حال مباہلہ کے لئے میں مستعد کھڑا ہوں۔لیکن امور مفصلہ ذیل کا تصفیہ ہونا پہلے مقدم ہے۔اول یہ کہ چند مولوی صاحبان نامی جیسے مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری بالا تفاق یہ فتویٰ جلد سوم