حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 206 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 206

حیات احمد ۲۰۶ لکھدیں کہ ایسی جزئیات خفیفہ میں اگر الہامی یا اجتہادی طور پر اختلاف واقع ہو تو اس کا فیصلہ بذریعہ لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے کو بد دعا دینے کے،جس کا دوسرے لفظوں میں مباہلہ نام ہے کرنا جائز ہے۔کیونکہ میرے خیال میں جزئی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کو لعنتوں کا نشانہ بنانا ہرگز جائز نہیں۔کیونکہ ایسے اختلافات اصحابوں میں ہی شروع ہو گئے تھے۔مثلاً حضرت ابن عباس محدث کی وحی کو نبی کی وحی کی طرح قطعی سمجھتے تھے اور دوسرے اُن کے مخالف تھے۔ایسا ہی صاحب صحیح بخاری کا یہ عقیدہ تھا کہ کتب سابقہ یعنی توریت و انجیل وغیرہ محرف نہیں ہیں اور ان میں کچھ لفظی تحریف نہیں ہوئی۔حالانکہ یہ عقیدہ اجماع مسلمین کے مخالف ہے اور با ایں ہمہ سخت مضر بھی ہے اور نیز بہ بداہت باطل۔ایسا ہی محی الدین ابن عربی رئیس المتصوفین کا یہ عقیدہ ہے کہ فرعون دوزخی نہیں ہے نبوت کا سلسلہ بھی منقطع نہیں ہوگا اور کفار کے لئے عذاب جاودانی نہیں اور مذہب وحدت الوجود کے بھی گویا وہی موجد ہیں۔پہلے ان سے کسی نے ایسی واشگاف کلام نہیں کی سو یہ چاروں عقیدے اُن کے، ایسا ہی اور بعض عقائد بھی اجماع کے برخلاف ہیں۔اسی طرح شیخ عبدالقادر جیلانی قَدَّسَ سِرُّہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اسماعیل ذبیح نہیں ہیں بلکہ اسحق ذبیح ہے۔حالانکہ تمام مسلمانوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ ذبیح اسماعیل ہے۔اور عید الضحیٰ کے خطبہ میں اکثر ملا صاحبان رو رو کر انہیں کا حال سنایا کرتے ہیں۔اسی طرح صد ہا اختلافات گزشتہ علماء و فضلاء کے اقوال میں پائے جاتے ہیں۔اسی زمانہ میں بعض علماء مہدی موعود کے بارہ میں دوسرے علماء سے اختلاف رکھتے ہیں کہ وہ سب حدیثیں ضعیف ہیں غرض جزئیات کے جھگڑے ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔مثلاً یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہو گیا تھا۔مگر امام حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان کی جماعت نے اس اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے اور بقول میاں عبدالحق اکیلے رہے۔حالانکہ جلد سوم