حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 203
حیات احمد ۲۰۳ جلد سوم ایک دوسرے کو مفتری سمجھیں اور وہ حسنِ ظن جو مومن پر ہوتا ہے ایک ذرہ ان کے در میان موجود نہ ہو۔ورنہ اجتہادی اختلاف میں ہرگز مباہلہ جائز نہیں۔اور اگر مباہلہ ہوگا تو ہرگز کوئی ثمرہ مترتب نہیں ہو گا۔ناحق غیر مذہب والے ہنسی ٹھٹھا کریں گے۔خدا تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اجتہادی اختلافات کی وجہ سے تہ تیغ کر دیوے اور دشمنوں کو ہنسا دے۔پس میاں عبد الحق اور ان کے پوشیدہ انصار کو مناسب ہے کہ اگر مباہلہ کا شوق ہے تو سنت نبوی اور کلام رپ عزیز کا اقتدا کریں۔قرآن کریم کے منشاء کے خلاف اگر مباہلہ ہو تو وہ ایمانی مباہلہ ہرگز نہیں۔افغانی مباہلہ ہو تو ہو۔اب میں ایک دفعہ پھر ان تمام مولوی صاحبان کو جنہیں پہلے اشتہار میں مخاطب کیا گیا تھا۔إِثْمَامًا لِلْحُجَّة دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اگر میرے دعاوی اور بیانات کی نسبت انہیں تر ڈر ہو تو حسب شرائط اشتہار سابقہ مجلس مباحثہ کی منعقد کر کے ان اوہام کا ازالہ کرالیں۔ور نہ یاد رکھیں کہ یہ امر کمال معصیت کا موجب ہے کہ خود اپنے اوہام کے ازالہ کی فکر نہ کریں اور دوسروں کو ورطہ ہواوہام میں ڈالیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى غزنوی جرگہ پر اتمام حجت المــشـــــــتــهر میرزا غلام احمد قادیانی ۱۲ / اپریل ۱۸۹۱ء مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۸۰ تا ۱۸۳ طبع بار دوم ) عبدالحق غزنوی کے مباہلہ کے اشتہار ہی کے سلسلہ میں آپ نے مناسب سمجھا کہ غزنوی جرگہ پر بھی اتمام حجت کر دیا جاوے اس وقت اس جرگہ کے رئیس مولوی عبدالجبار صاحب خلف اکبر حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی تھے۔مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کو تو آپ کے متعلق الہامات ہوئے تھے اور آپ نے آپ کے مبعوث ہونے کی اور اپنی اولاد کے محروم رہ جانے کی