حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 202 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 202

حیات احمد ۲۰۲ اب اس تمام بیان سے بوضاحت کھل گیا ہے کہ مسنون طریق مباہلہ کا یہ ہے کہ جو شخص مباہلہ کی درخواست کرے۔اس کے دعوی کی بنا ایسے یقین پر ہو جس یقین کی وجہ سے وہ اپنے فریق مقابل کو قطعی طور پر مفتری اور کا ذب خیال کرے اور اس یقین کا اُس کی طرف سے بصراحت اظہار چاہئے کہ میں اس مفتر ی شخص کو جانتا ہوں۔نہ صرف ظن اور شک کے طور سے بلکہ کامل یقین سے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں ظاہر فرمایا ہے۔پھر ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہے کہ پہلے خدا تعالیٰ نے دلائلِ بینہ سے بخوبی عیسائیوں کو سمجھا دیا کہ عیسی بن مریم میں کوئی خدائی کا نشان نہیں۔اور جب باز نہ آئے تو پھر مباہلہ کے لئے درخواست کی۔اور نیز آیات موصوفہ بالا سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسنون طریقہ مباہلہ کا یہی ہے کہ دونوں طرف سے جماعتیں حاضر ہوں۔اگر جماعت سے کسی کو بے نیازی حاصل ہوتی تو اس کے اوّل مستحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔یہ کیا انصاف کی بات ہے جو ہماری نبی صلی اللہ علیہ وسلم مباہلہ کے لئے جماعت کے محتاج ٹھہرائے جائیں اور میاں عبدالحق اکیلے کافی ہوں عجب بات ہے کہ مباہلہ کے لئے تو دوڑتے ہیں اور پہلے ہی قدم میں فرمودہ خدا اور رسول کو چھوڑتے ہیں۔اور اگر کوئی جماعت ساتھ ہے تو بذریعہ اشتہار اس کا نام لینا چاہئے۔اگر اصل حقیقت پر غور کیا جاوے تو مباہلہ کی درخواست کرنا ہمارا حق تھا اور وہ بھی اس وقت جب ہم اپنے دعوئی کو دلائل و بینات مفصلہ ومسکنہ سے مؤید ومستند کر چکتے۔مگر اب بھی تَنَؤُلَا تَرَحُمًا لِله مباہلہ کے لئے تیار ہیں مگر انہیں شرائط کے ساتھ جو مذکور ہو چکیں۔اب ناظرین یا د رکھیں کہ جب تک یہ تمام شرائط نہ پائے جائیں تو عند الشرع مباہلہ ہرگز درست نہیں۔مباہلہ میں دونوں فریق ایسے چاہئیں کہ در حقیقت یقینی طور پر جلد سوم