حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 201
حیات احمد ۲۰۱ جلد سوم کے لئے ان سے درخواست کی گئی۔اور یہ درخواست صرف اس بنا پر تھی کہ ہم پر خدا تعالیٰ نے یہ بات یقینی طور پر کھولدی ہے کہ تم اس اعتقاد میں کہ مسیح ابن مریم سچ سچ خدا کا بیٹا اور خدا ہے مفتری ہو خدا تعالیٰ نے انجیل میں ہرگز ایسی تعلیم نہیں دی کہ اس کا کوئی دوسرا شریک بھی ہے اور در حقیقت اس کا کوئی بیٹا بھی ہے جو بیٹا ہونے کی وجہ سے خدا بھی ہے۔اگر تمہیں یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے تو بقول تمہارے ہم مفتری ٹھہرے تو آؤ باہم مباہلہ کریں تا اس شخص پر جو کاذب اور مفتری ہے خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو اور فرمایا کہ مباہلہ کے لئے ایک نہیں بلکہ دونوں طرف سے جماعتیں آنی چاہئیں۔تب مباہلہ ہو گا۔جیسا کہ فرماتا ہے۔اَلْحَقُّ مِنْ رَبَّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِينَ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ال یعنی مسیح کا بندہ ہونا بالکل سچ اور شک سے منزہ ہے اور اگر اب بھی عیسائی لوگ مسیح ابن مریم کی الوہیت پر تجھ سے جھگڑا کریں اور خدا تعالیٰ کے اس بیان کو جو مسیح در حقیقت آدم کی طرح ایک بندہ ہے گو بغیر باپ کے پیدا ہوا، دروغ سمجھیں اور انسان کا افترا خیال کریں تو اُن کو کہہ دے کہ اپنے عزیزوں کی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لئے آویں اور ادھر ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لئے آویں گے۔پھر جھوٹوں پر لعنت کریں گے۔لى ال عمران: ۶۱ ۶۲ سے اس آیت میں لفظ الْكَاذِبِينَ صاف ہمارے مدعا اور بیان کا شاہد ناطق ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ فرما کر ظاہر کرتا ہے کہ مباہلہ اسی صورت میں جائز ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کو عمد ادروغ بازیقین کرتے ہوں نہ یہ کہ صرف مُخطِی خیال کرتے ہوں۔