حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 200
حیات احمد ۲۰۰ سمجھنا چاہئے کہ وہ درخواست کسی جزئی اختلاف کی بناء پر نہیں بلکہ اس افترا کا جواب ہے جو انہوں نے عمداً کیا اور یہ کہا کہ میرا ایک دوست جس کی بات پر مجھے بکلی اعتماد ہے دو مہینے تک قادیان میں میرزا غلام احمد کے مکان پر رہ کر بچشم خود دیکھ آیا ہے کہ اُن کے پاس آلات نجوم ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے وہ آئندہ کی خبریں بتلاتے ہیں اور اُن کا نام الہام رکھ لیتے ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ اس صورت کو جز ئی اختلاف سے کیا تعلق ہے، بلکہ یہ تو اس قسم کی بات ہے جیسے کوئی کسی کی نسبت یہ کہے کہ میں نے اس کو بچشم خود زنا کرتے دیکھا۔یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا اگر میں اس بے بنیا داخترا کے لئے مباہلہ کی درخواست نہ کرتا تو اور کیا کرتا ! بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ ہمیں مباہلہ مسنونہ سے انکار نہیں۔اگر انکار ہے تو ایسے مباہلہ سے جس کا قرآن اور حدیث سے نشان نہیں ملتا۔اگر اس طور پر مباہلہ کرنا چاہو کہ جس طور سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درخواست کی تھی تو ہم بدل و جان مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔یقیناً تمہیں معلوم ہو گا کہ وہ مباہلہ جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ سے درخواست کی تھی۔وہ یہ تھا کہ آنجناب کو وحی الہی سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ عیسائی لوگ اس بات میں جھوٹے ہیں جو انہوں نے مسیح ابن مریم کو خدا کا بیٹا بلکہ خدا بنا رکھا ہے۔سچ صرف اس قدر ہے کہ مسیح نبی تھا۔اور خدا تعالیٰ کا بندہ تھا اور اس سے زیادہ جو کچھ ہے وہ عیسائیوں کا افترا ہے۔ادھر عیسائی بھی کلام اللہ کے اس بیان کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ خیال کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کا نعوذ باللہ اپنا افترا ہے، چنانچہ اوّل اُن کے اسکات و الزام کے لئے ہر ایک قسم کے دلائل و نشان قرآن شریف نے پیش کئے، مگر انہوں نے اپنے تعصب کی وجہ سے ان دلائل کو قبول نہ کیا آخر جب انہوں نے کسی دلیل کو قبول نہ کیا۔اور کسی نشان پر ایمان نہ لائے تو اتمام حجت کی غرض سے مباہلہ جلد سوم