حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 115
حیات احمد ۱۱۵ جلد سوم زیادہ فکر کروں تو وہی دورہ شامل حال ہے چونکہ آپ کا آخری خط آیا معلوم ہوتا تھا که گویا بشمولیت مولوی عبدالجبار صاحب لکھا گیا ہے اس لئے جواب اس طرز سے لکھا گیا تھا یہ عاجز غلبہ مرض سے بالکل نکما ہو رہا ہے یہ طاقت کہاں ہے کہ مباحث تقریری یا تحریری شروع کروں۔محض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تینوں رسالے لکھے گئے اور وہ بھی اس طرح سے کہ اکثر دوسرا شخص اس عاجز کی تقریر کولکھتا گیا اور نہایت کم اتفاق ہوا کہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھا ہو اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ عبارت کو عمدگی سے درست کر دیا جائے آپ کے معلومات حدیث میں بہت وسیع ہیں۔یہ عاجز ایک اُقی اور جاہل بقیہ حاشیہ تو شاہ صاحب اس کے افسر تھے مگر مخلصانہ تعلقات رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے انہیں بہت حسن ظن تھا اور محبت رکھتے تھے۔یہ دراصل ایک مجمع احباب تھا۔مرزا امان اللہ صاحب۔منشی امیر الدین۔منشی عبد الحق۔بابو الہی بخش۔حافظ محمد یوسف صاحب منشی محمد یعقوب صاحب وغیرھم۔یہ سب کے سب اہلحدیث تھے۔اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ انہیں قبل از دعوی مسیحیت ارادت تھی۔آپ کی خدمات دین کے بدل معترف اور ان میں مالی نصرت اور اشاعت میں حصہ لیتے تھے۔دعویٰ مسیحت پر بھی ان کے حسن ظن میں فرق نہیں آیا۔لاہور میں مخالفت کا زور تھا۔اور مولوی محمد حسین صاحب کو اپنی اس با اثر جماعت کے جاتے رہنے کا صدمہ تھا۔اس لئے ان لوگوں نے چاہا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے حضرت حکیم الامت کی گفتگو ہو جائے۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۱۰۹ تا ۱۱۱ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حمد ان ایام میں حضرت اکثر علیل تھے اور ضعف اور دوران سر کے علاوہ آپ کے ہاتھوں پر خارش تھی اس کی وجہ سے بھی لکھ نہ سکتے تھے اس غرض کے لئے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کو بھی آپ نے بلا لیا تھا تا کہ خطوط کے جواب اور ازالہ اوہام کی تسطیر میں ہاتھ بٹائیں جیسا کہ حضرت نے لکھا ہے۔آپ املا کراتے جاتے تھے اور کتاب لکھی جاتی تھی۔حضرت خود اپنے ہاتھ سے لکھنے اور املا کرا کر لکھوانے میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے چنانچہ آتھم کے مباحثہ میں اوّل سے آخر تک املا کرایا اور با ایں کہیں ربط و ترتیب میں فرق نہیں آیا اور میں نے ( جو جلسہ میں موجود تھا) اور دوسرے احباب نے دیکھا کہ آپ بے تکلف لکھاتے جا رہے تھے۔آیات کے متعلق البتہ فرماتے کہ حوالہ لکھوا دیا جاوے۔ازالہ اوہام اس طرح پر تحریر پایا تھا۔(عرفانی)