حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 116
حیات احمد 117 آدمی ہے نہ عبادت ہے نہ ریاضت نہ علم نہ لیاقت غرض کچھ بھی چیز نہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امر تھا اور وہ قطعی اور یقینی تھا اس عاجز نے پہنچا دیا۔مانا نہ مانا اپنی رائے اور سمجھ پر موقوف ہے درحقیقت میرے لئے یہ کافی تھا کہ میں صرف الہام الہی کو ظاہر کرتا لیکن میں نے اپنے رسالوں میں قَالَ الله اور قَالَ الرَّسُول کا بیان اس لئے کچھ مختصر سا کر دیا ہے کہ شاید لوگ اس سے نفع اٹھاویں مجھے اس سے کچھ بھی انکار نہیں کہ خدا تعالیٰ آئندہ کسی کو اُس کی روحانی حالت کے لحاظ سے درحقیقت مسیح بنا کر دمشق کی مشرقی طرف اُسی طور سے اتار دے جیسے مسافر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا اترتے ہیں۔کچھ تعجب نہیں کہ اُس زمانے میں دجال بھی ہو۔حضرت مہدی بھی ہوں اور پھر اسلام میں سیفی طاقت پیدا ہو جائے اور تمام لوگ مسلمان ہو جاویں۔مگر جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھولا ہے صرف اتنا ہے کہ یہ عاجز روحانی طور پر مثیل مسیح ہے اور روحانی طور پر موعود بھی ہے اور نیز یہ کہ کوئی مسیح آسمان سے خا کی وجود کے ساتھ اتر نے والا نہیں ظلی اور مثالی طور پر مسیح کے آنے سے مجھے انکار نہیں بلکہ ایک ہزار مسیح بھی کہا جاوے تو میرے نزدیک ممکن ہے۔میرے نز دیک احادیث صحیحہ بھی حقیقی طور پر مسیح کے اترنے کے بارے میں وہ زور نہیں دیتیں جو آج کل کے علماء خیال کر رہے ہیں۔مسیح کا اتر ناسیچ مگر خلی اور مثالی طور پر۔مولوی عبد الرحمان صاحب اپنے الہامات کے حوالے سے اس عا جز کو ضال و مضل قرار دے چکے ہیں۔اور ایسا کافر کہ جس کو کبھی ہدایت نہیں ہوگی اور میاں عبد الحق غزنوی بھی اپنے الہامات کے حوالے سے اس عاجز کو جہنمی قرار دے چکے ہیں اور مولوی عبدالجبار صاحب فرماتے ہیں کہ جو کچھ میاں عبد الحق صاحب کے الہام ہیں میں ان پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ صحیح اور درست ہیں اب آپ کے کہنے سے وہ کیا سمجھیں گے اور آپ انہیں کیا سمجھائیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جس طرح جلد سوم