حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 114
حیات احمد ۱۱۴ جلد سوم آپ ۲۱ / مارچ ۱۸۹۱ء تک امرتسر پہنچ جاویں گے اور ۲۳ / مارچ کو جلسہ ہو سکے گا مگر یہ جلسہ اس وقت نہ ہو سکا اس لئے کہ ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب حج کو چلے گئے۔میں پھر اصل موضوع کی طرف آتا ہوں خط و کتابت کے اس سلسلہ میں مولوی محمد حسین صاحب کو مندرجہ ذیل دو خط ان کے جواب میں لکھے۔بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ مند و می مکر می اخویم مولوی صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا اس عاجز کے لئے بڑی مشکل کی بات یہ ہے کہ طبیعت اکثر دفعہ نا گہانی طور پر ایسی علیل ہو جاتی ہے کہ موت سامنے نظر آتی ہے اور کچھ کچھ علالت تو دن رات شامل حال ہے اگر زیادہ گفتگو کروں تو دورہ مرض کا شروع ہو جاتا ہے اگر بقیہ حاشیہ۔سید فتح علی شاہ صاحب کی طرف سے ہے۔اور وہ بہر حال ۱۲ مارچ ۱۸۹۱ء کو حج کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔اور گیارہ مارچ تک ہم کسی صورت میں پہنچ نہیں سکتے۔اگر یہ فتح علی شاہ صاحب دس دن اور ٹھہر جائیں تو اکیس مارچ ۱۸۹۱ء تک یہ عاجز بآسانی امرتسر میں آ سکتا ہے۔آئندہ جیسی مرضی ہو۔آں مخدوم کی ملاقات کا بہت شوق ہے۔اگر فرصت ہو اور ملاقات اسی جگہ ہو جائے تو نہایت ہی خوشی کا موجب ہو گا۔فضل الرحمن کی نسبت اس عاجز کو پہلے سے ظن نیک ہے۔ایک دفعہ اس کی نسبت سیھدی کا الہام ہو چکا ہے۔بعد استخاره مسنونه اگر اسی تجویز کو پختہ کر دیں تو میں بالطبع پسند کرتا ہوں۔قرابت اور خویش بھی ہے۔جوان ہے۔مولوی عبد الرحمن صاحب اور میاں عبدالحق صاحب کے معاملہ میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔یہ عاجز ایک بندہ ہے۔فیصلہ الہی کی انتظار کر رہا ہوں۔خدا تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں۔بڑی خوشی ہوگی۔اگر آں مخدوم لودہانہ میں تشریف لاویں پھر ضروری امور میں مشورہ کیا جائے گا۔۱۹ مارچ ۱۸۹۱ء۔نوٹ۔اس مکتوب میں جن سید فتح علی شاہ صاحب کا ذکر ہے وہ لاہور کے باشندے اور محکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے۔خان بہادر بھی تھے۔خاکسار عرفانی ذاتی طور پر انہیں جانتا ہے۔اس لئے کہ جب وہ محکمہ نہر میں داخل ہوا ہے