حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 113
حیات احمد ۱۱۳ جلد سوم امرتسر میں ایک جلسہ کی تجویز جب غزنوی گروہ اور لکھو کے والے مولویوں نے اپنے الہامات مشتہر کر کے آپ کے خلاف ایک نیا محاذ امرتسر میں قائم کرنا چاہا تو آپ نے بمشورہ احباب پسند کیا کہ امرتسر میں ایک ނ جلسہ کیا جاوے اور احقاق حق کیلئے کھلے میدان میں ان لوگوں پر اتمام حجت دلائل اور مباہلہ - کی جائے غزنویوں نے پیچھے رہ کر مولوی عبدالحق غزنوی کو آگے کیا (جو حضرت مولوی عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تو نہ تھا مگر اسی جرگہ میں بہ حیثیت ایک شاگرد کے شریک تھا اور انہیں میں سے سمجھا جاتا تھا اسے الہام کا بھی دعوی تھا اور لکھو کے والے بھی الہام کے مدعی تھے اور انہوں نے اپنے الہامات جو اشتہارات میں شائع کئے جن میں حضرت کی تحقیر منظور تھی اس لئے حضرت نے پسند کیا کہ امرتسر میں ایک جلسہ ہو جائے اس جلسہ کے محرک دراصل خان بہادر سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر تھے اور وہ چاہتے تھے کہ امرتسر میں ایک جلسہ ہو جائے جیسا کہ حضرت کے ایک مکتو مجھ سے جو حکیم الامت کے نام ہے ظاہر ہوتا ہے۔حضرت کا خیال تھا کہ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچ کر موجب مسرت و فرحت ہوا۔اگر چہ اس عاجز کی طبیعت صحت پر نہیں۔اور اندیشہ ہے کہ بیمار نہ ہو جاؤں لیکن اگر آں مکرم مصلحت دیکھتے ہوں تو میں لاہور میں حاضر ہو سکتا ہوں۔میرے خیال میں کوئی نتیجہ ایسے مجمع کا نظر نہیں آتا۔آنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَهُمْ عَلَى رَأْيِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ۔ہاں ی ممکن ہے کہ ان کے خیالات پیش کردہ معلوم کر کے ان کے رفع دفع کے لئے کچھ اور بھی ازالہ اوہام میں لکھا جائے۔مگر یہ بھی غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔یہ عاجز ازالہ اوہام میں بہت کچھ لکھ چکا ہے بہر حال اگر آں مخدوم مصلحت وقت سمجھیں تو میں حاضر ہوسکتا ہوں۔بشرطیکہ طبیعت اس دن علیل نہ ہو۔میاں عبدالحق صاحب نے جو اشتہارات پنجاب اور ہندوستان میں بسعی مولوی عبدالجبار صاحب شائع کئے ہیں جن میں مباہلہ کی درخواست ہے۔ان اشتہارات سے لوگوں پر بہت برا اثر پڑا ہے۔سو میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کا بھی ساتھ ہی فیصلہ ہو جائے اور ان کے الہامات کا فیصلہ خدا تعالیٰ آپ کر دے گا۔اس جلسہ کی بناء