حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 78
حیات احمد ZA جلد دوم حصہ اول اندرونی مخالفین مسلمانوں کے بعض کوارٹرز میں مخالفت کا ہلکا سا دھواں اٹھتا دکھائی دیا اور جوں جوں کتاب کی جلدیں شائع ہونے لگیں مخالفت کے دائرہ میں بھی وسعت ہوتی گئی۔اندرونی مخالفت کی آگ اس وقت شدت سے بھڑک اٹھی جب آپ نے حصہ سوم شائع کیا یا برا ہین کی تصنیف اور اشاعت کے تاریخی سلسلہ کے لحاظ سے یوں کہنا چاہیئے کہ اندرونی مخالفین میں ۸۱-۱۸۸۲ء میں شورش پیدا ہوئی اس لئے کہ حصہ سوم میں آپ نے یہ دعوی کھلے الفاظ میں کر دیا تھا کہ جس کو الہام میں شک ہو ہم اس کو مشاہدہ کرا دیتے ہیں چنانچہ آپ نے حاشیہ نمبر 11 کے صفحہ ۲۱۶ - ۲۱۷ میں اعلان کیا کہ :- جو کچھ ہم نے الہام کی نسبت بیان کیا ہے یعنی یہ کہ وہ اب بھی امت محمدیہ کے کامل افراد میں پایا جاتا ہے اور انہیں سے مخصوص ہے ان کے غیر میں ہرگز نہیں پایا جا تا یہ بیان ہمارا بلا ثبوت نہیں بلکہ جیسا بذریعہ تجربہ ہزار ہا صداقتیں دریافت ہو رہی ہیں ایسا ہی یہ بھی تجربہ اور امتحان سے ہر ایک طالب پر ظاہر ہوسکتا ہے اور اگر کسی کو طلب حق ہو تو اس کا ثابت کر دکھانا بھی ہمارا ہی ذمہ ہے بشرطیکہ کوئی برہمو اور منکر دین اسلام کا طالب حق بن کر اور بصدق دل دینِ اسلام قبول کرنے کا وعدہ تحریری مشتہر کر کے اخلاص اور نیک نیتی اور اطاعت سے رجوع کرے۔فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ “ ( ال عمران :۶۴) (براہین احمدیہ ہر چہار حصص صفحہ ۲۱۶ حاشیہ نمبر ۱۱۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۴۰ حاشیہ نمبر۱۱) حضرت اقدس نے یوں تو براہین کے متعلق ہی لکھا تھا کہ مامور اور ملہم ہو کر تالیف کر رہا ہوں لیکن جب اس قسم کا دعویٰ مشتہر کیا گیا تو مخالفین میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔