حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 77 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 77

حیات احمد 22 جلد دوم حصہ اوّل مذہب ہے کہ غفور الرحیم خدا اس خدمت کا اجر اُسے ضرور دے گا جو اُس نے براہین کے وقت کی تھی اور حضرت نے اس کے لئے جو دعائیں کی تھیں وہ ضائع نہ جائیں گی۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔میر عباس علی صاحب کی امداد کا طریق یہ نہ تھا کہ وہ خود کوئی مالدار آدمی نہ تھے اور نہ روپیہ دیتے تھے بلکہ انہوں نے براہین کے خریداروں کے فراہم کرنے کی کوشش کی۔ان خریداروں میں سے بعض سعید الفطرت ایسے لوگ نکل آئے جو بالآخر اس سلسلہ میں داخل ہو کر اپنے مقصدِ حیات کو پا گئے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو انہوں نے حاصل کیا ان بزرگوں کے نام یہاں مجھے دینے کی ضرورت نہیں اس کے لئے کوئی دوسرا مقام ہے۔بعض ایسے بزرگ بھی تھے جو براہِ راست براہین احمدیہ کے خریدار ہوئے اور انہوں نے اس کی اشاعت کے لئے پوری کوشش کی ان میں سے چود ہری رستم علی خانصاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ کا نام ہمیشہ فخر سے لیا جائے گا۔غرض براہین احمدیہ ان حالات میں لکھی گئی اور طبع ہونی شروع ہوئی معاونین کا یہ حال تھا۔اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ مخالفین کا بھی کسی قدر ذکر کر دوں۔براہین احمدیہ پر جو ریویو لکھے گئے ہیں ان کے متعلق میرا اس وقت یہ خیال ہے کہ اگر ضرورت سمجھی گئی تو اس جلد کے مکمل ہو جانے پر بطور ضمیمہ ایک جلد میں انہیں شائع کر دیا جائے گا یا ان کے بعض ضروری حصوں کو مناسب موقعہ پر دے دیا جائے گا۔اِنْشَاءَ اللَّهُ الْعَزِيْزُ وَ بِاللَّهِ التَّوْفِيقِ براہین احمدیہ کے مخالفین اور معاندین براہین احمدیہ کے اعلان کے ساتھ عام طور پر مخالف وموافق گروہ میں ایک شور اور جوش پیدا ہوا۔اوّل الذکر گروہ کو خیال تھا کہ ان کے مذہب اور عقیدہ پر ایک حربہ اور حملہ کیا جاوے گا۔اور آخر الذکر لوگ منتظر تھے کہ جو کتاب ایسے دعاوی اور تحدی کے ساتھ شائع ہونے والی ہے وہ کوئی غیر معمولی کتاب ہو گی۔مخالفین دو قسم کے لوگ تھے اندرونی اور بیرونی۔باوجود یکہ یہ کتاب حقیقت اسلام اور صداقت محمدیہ کے اظہار کے لئے لکھی جا رہی تھی مگر پھر بھی بدقسمتی سے