حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 79 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 79

حیات احمد ۷۹ جلد دوم حصہ اوّل اندرونی مخالفین کے مرکز اور ان کی مخالفت کے نمایاں آثار اندرونی مخالفین کی مخالفت کے دو مرکز قائم ہوئے اول امرتسر دوم لودھیانہ۔یہ مخالفت ابتداءً تو محض تقریروں اور وعظوں میں تھی مگر جوں جوں کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت بڑھتی گئی اور لوگوں میں اس کی قبولیت کا اثر ہونے لگا تو مخالفین اور معاندین کے اس گروہ کی سرگرمیاں بھی تقریر کے میدان سے نکل کر تحریر کے دائرے میں آنے لگیں۔مولوی غلام علی صاحب قصوری کی مخالفت امرتسری محاذ کے سپہ سالار مولوی غلام علی قصوری تھے۔مولوی غلام علی صاحب قصوری سے خاکسار عرفانی کو نیاز حاصل نہیں ہوا لیکن ان کے بھائیوں مولوی غلام اللہ اور مولوی ولی اللہ صاحب سے نہ صرف شناسائی حاصل تھی بلکہ گونہ بے تکلفی کی عزت حاصل تھی۔مولوی غلام علی صاحب اپنے علم کے لحاظ سے امرتسر میں ممتاز تھے اور ان کی خدمت میں لوگ حصول تعلیم کے لئے آتے تھے ہمارے سلسلہ کے ایک مخلص عالم با عمل سید قاضی امیر حسین صاحب رضی اللہ عنہ نے بھی کچھ عرصہ تک مولوی صاحب سے تحصیل علم کی تھی۔بہر حال مولوی غلام علی صاحب ایک ذی علم اور مُشَارٌ إِلَيه شخص تھے انہوں نے حضرت اقدس کے دعوی الہام کو سن کر وحی اور الہام کے متعلق ایک رسالہ لکھا جس میں اپنے خیال کے موافق ممکن ہے اونہوں نے وحی اور الہام کی حقیقت بیان کی ہو مگر سچ یہ ہے کہ انہوں نے برہمو ازم کے اصول پر الہام کا انکار کیا ہے ، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ برا ہمو جس طرح الہام کی حقیقت کو مانتے ہیں وہی تعریف اور اصول مولوی صاحب نے بیان کی۔اس سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے اولیاء اللہ کے الہام سے انکار کیا ہے۔خود حضرت اقدس کے دل پر بھی ان کے رسالہ کو پڑھ کر یہی اثر تھا۔چنانچہ حاشیہ در حاشیہ نمبر اصفحہ ۷اللہ میں حضرت نے مولوی صاحب کے رسالہ پر بحث کی ہے۔لے براہین احمدیہ ہر چہار قصص روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۱ حاشیه در حاشیہ نمبرا