حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 71
حیات احمد اے جلد دوم حصہ اول نام مگر ایسے رنگ میں کہ کنایہ صراحت سے بھی بڑھ گیا تحریر فرمایا۔کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔اس خاکسار نے ایک نواب صاحب کی خدمت میں جو بہت پارسا طبع اور متقی فضائل علمیہ سے متصف اور قال اللہ اور قال الرسول سے بدرجہ غایت خبر رکھتے ہیں کتاب براہین احمدیہ کی اعانت کے لئے لکھا تھا۔سو اگر نواب صاحب ممدوح اس کے جواب میں لکھتے کہ ہماری رائے میں کتاب ایسی عمدہ نہیں جس کے لئے کچھ مدد کی جائے تو کچھ جائے افسوس نہ تھا مگر صاحب موصوف نے پہلے تو یہ لکھا کہ پندرہ ہیں کتابیں ضرور خرید لیں گے اور پھر دوبارہ یاد دہانی پر یہ جواب آیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خرید نایا انہیں کچھ مدد دینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے۔اس لئے ریاست سے خرید وغیرہ کچھ امید نہ رکھیں سو ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاہ خدا وند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے) لیکن ہم بادب تمام عرض کرتے ہیں کہ ایسے ایسے خیالات میں گورنمنٹ کی ہجو ملیح ہے گورنمنٹ انگریزی کا یہ اصول نہیں ہے کہ کسی قوم کو اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے سے رو کے یا دینی کتابوں کی اعانت کرنے سے منع کرے۔“ ( براہین احمدیہ جلد چہارم صفحہ ج۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۳۲۰) نواب صاحب نے جس گورنمنٹ کی خوشنودی کے لئے براہین احمدیہ کی اعانت اور اس کی خرید کے وعدہ کے ایفا کی پرواہ نہ کی تھی آخر وہ ان پر ناراض ہوگئی اور یہ بڑی دردناک داستان ہے ان کا خطاب نوابی بھی چھینا گیا اور نواب صاحب کی عافیت اس فکر و غم میں جاتی رہی ان کے مداحوں میں حافظ محمد یوسف ضلعدار امرتسر اور دوسرے اکابر اہلحدیث تھے۔حافظ صاحب حضرت اقدس سے بھی اظہار ارادت کرتے تھے اور آپ کی دعاؤں پر انہیں بہت عقیدت تھی وہ اور چند اور آدمی حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوئے اور بمنت درخواست کی کہ اس