حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 72
حیات احمد ۷۲ جلد دوم حصہ اوّل مصیبت میں دعا کے ذریعہ مدد کی جاوے حضرت اقدس کو اگر چہ نواب صاحب کی اس بے حسی پر بہت افسوس اور رنج تھا مگر خدا تعالیٰ کے پاک بندے اس کی کسی مخلوق سے کوئی کینہ اور عداوت نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنے دشمنوں تک کے لئے راحت و رحمت کا جوش رکھتے ہیں یہ آخری ایام تھے جب کہ ان لوگوں نے رجوع کیا اور وہ اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا چکے تھے اور نا کام رہ چکے تھے۔حضرت نے دعائے خاص کا وعدہ کر لیا۔اور اس وقت کسی قسم کی اعانت براہین سے انکار کر دیا۔جو کچھ ہوا تھا وہ انہیں الفاظ کے اثر کے ماتحت ہوا تھا جو حضرت نے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے ) لکھے تھے نواب صاحب پر گورنمنٹ کے اس عتاب کا اس قدر اثر ہوا کہ ان کی صحت بگڑ گئی اور وہ سخت بیمار ہو گئے۔حضرت نے دعا کی اور دعا واپسی خطاب نواب کے لئے تھی۔خدا تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت بخشا مگر وقت آچکا تھا کہ نواب صاحب زندہ رہ کر پھر اس عزت خطاب کا حظ حاصل نہ کریں موت نے خاتمہ کر دیا مگر خطاب بحال ہو گیا۔امرائے معاونین غرض مسلمان رؤسا اور امراء نے اس کی طرف توجہ نہ کی سوائے بعض کے ان کا ذکر حضرت نے خود براہین میں کر دیا ہے۔اور آپ نے اُن کے اخلاص اور شوق اعانت دین کے تذکرے سے انہیں زندہ جاوید بنادیا ہے اُن کے اس نیک کام کا ذکر میں حضرت کے سوانح حیات میں حضرت ہی کے الفاظ میں کر دینا ضروری سمجھتا ہوں اس لئے حضرت اقدس کی غرض یہ تھی کہ : ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے (براہین احمدیہ مراد ہے ) وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے“ ( براہین احمدیہ جلد اول صفحہ الف۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵) اس لئے حضرت کے اس منشاء کی تکمیل کے لئے میں اُن معاونین کا جن کا حضور نے خود ذکر فرمایا ہے یہاں تذکرہ لازمی سمجھتا ہوں سب سے اول جو بزرگ اول المعاونین رؤسائے ہند