حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 70 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 70

حیات احمد جلد دوم حصہ اول بھیج دیں ہم اسی کو عطیہ عظمی سمجھیں گے اور احسان عظیم خیال کریں گے ورنہ ہمارا حرج ہو گا اور گم شدہ حصوں کو دوبارہ چھپوانا پڑے گا۔برائے خدا ہمارے معز ز اخوان سرد مہری اور لا پرواہی کو کام میں نہ لائیں اور دنیوی استغناء کو دین میں استعمال نہ کریں۔امیدوار بود آدمی بخیر کساں مرا بخیر تو امید نیست بد مرسانی غرض امراء اور رؤساء نے نہایت حوصلہ شکن اور بعض صورتوں میں قابل شرم سلوک کیا۔کتاب تو اکثروں نے واپس نہ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت بڑا حصہ کتاب کا نامکمل رہ گیا۔چنانچہ آخر میں صرف چوتھی جلد ہی رہ گئی تھی اور اگر کسی نے کتاب بھیجی تو ایسی حالت میں کہ وہ ضائع کر دی گئی تھی یعنی اوراق پھٹ گئے اور داغ دھبوں سے خراب ہو چکی تھی۔امیروں کی اس حالت پر آپ براہین کی چوتھی جلد کی اشاعت تک افسوس فرماتے رہے۔قارئین کرام کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ براہین احمدیہ کے ساتھ جو اشتہارات ہر جلد کے ساتھ شامل ہیں ان کو غور سے پڑھیں تو یہ حقیقت اُن پر آشکارا ہو جائے گی۔نواب صدیق حسن خان صاحب کا واقعہ اسی سلسلہ میں نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالی کا واقعہ یہاں بیان کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں مجھے نواب صاحب کے سوانح حیات یہاں بیان کرنے مقصود نہیں۔نواب صاحب بھوپال میں خدا تعالیٰ کی دین سے بہت بڑے درجہ اور رتبہ پر پہنچے۔انہیں اشاعت کتب دینیہ اور تالیف کتب دینیہ کا مذاق اور شوق تھا۔اہل حدیث فرقہ سے وہ تعلق رکھتے تھے اور مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ان کی تعریف اور شہرت کے لئے اپنے رسالہ کے ذریعہ پراپیگنڈہ کرتے بلکہ بعض اوقات وہ انہیں مجد د چودھویں صدی بھی کہتے تھے۔حضرت اقدس کا تو اس وقت کوئی دعوئی نہ تھا۔براہین کی اشاعت پر آپ نے نواب صاحب کو ایک خادم دین رئیس سمجھ کر اس کی اعانت کی طرف توجہ دلائی اور انہوں نے ابتداء وعدہ بھی کیا مگر بعد میں گورنمنٹ برطانیہ کے خوف سے دستکش ہو گئے۔چنانچہ اس واقعہ کو حضرت اقدس نے اس وقت بلا اظہار ترجمہ:۔انسان کولوگوں سے بھلائی کی امید ہوتی ہے، مجھے تجھ سے بھلائی کی امید نہیں میرے ساتھ برائی بھی تو نہ کر۔