حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 65 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 65

حیات احمد جلد دوم حصہ اول بعض صاحبوں کی سمجھ پر رونا آتا ہے جو وہ ہر وقت درخواست اعانت کے یہ جواب دیتے ہیں۔کہ ہم کتاب کو بعد تیاری کے خرید لیں گے پہلے نہیں۔ان کو سمجھنا چاہئے کہ یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مؤلّف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں۔“ اعانت کا وقت تو یہی ہے کہ جب طبع کتاب میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ورنہ بعد چھپ چکنے کے اعانت کرنا ایسا ہے جیسے بعد تندرستی کے دوا دینا۔پس ایسی لا حاصل اعانت سے کس ثواب کی توقع ہوگی۔“ 66 ( براہین احمدیہ جلد ۲ صفحہ و۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۶۹) خدا تعالیٰ پر توکل اور کتاب کی اشاعت کا یقین باوجود یکہ مالی مشکلات آپ کی راہ میں تھیں۔کتاب کے لئے سرمایہ کی کوئی صورت نہ تھی تحریک اعانت پر لوگوں میں قبض طاری تھی۔اور تحریک اعانت کے جوابات دل شکن اور حوصلہ فرسا تھے۔مگر با ایں آپ کو یقین اور کامل یقین تھا کہ یہ کتاب طبع ہو جائے گی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔رہا یہ فکر کہ اس قدر روپیہ کیونکر میسر آوے گا سواس سے تو ہمارے دوست ہم کو مت ڈراویں اور یقین کر کے سمجھیں جو ہم کو اپنے خدائے قادر مطلق اور اپنے مولیٰ کریم پر اس سے زیادہ تر بھروسا ہے کہ جو ممسک اور خسیس لوگوں کو اپنی دولت کے اُن صندوقوں پر بھروسا ہوتا ہے کہ جن کی تالی ہر وقت ان کی جیب میں رہتی ہے۔سو وہی قادر تو انا اپنے دین اور اپنی واحدانیت اور اپنے بندوں کی حمایت کے لئے آپ مدد کرے گا۔اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 66 ( براہین احمدیہ جلد ۲ صفحہ و۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۷۰ ) غرض ایک بار نہیں بلکہ متعدد مرتبہ آپ نے صاف صاف الفاظ میں اس حقیقت کا اعلان کیا۔اعانت کے لئے تمام تحریکات صرف اسی فطرتی قانون تمدن و تعاون کی بناء پر تھیں جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور نیز رعایت اسباب کے لئے جو تمام انبیاء اور راستبازوں کا خاصہ ہے چنانچہ