حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 64
حیات احمد ۶۴ جلد دوم حصہ اول نہیں۔اس حقیقت کی خوبی اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب اُس وقت کے حالات عسر اور مالی دقتوں کی کیفیت ذہن میں ہو۔پھر ایک دوسرے موقعہ پر میر عباس علی صاحب نے چاہا۔کہ کچھ چندہ کیا جاوے۔مگر آپ نے اِس سے اُن کو روک دیا۔چنانچہ آپ نے لکھا۔کہ وو " غرباء سے چندہ لینا ایک مکر وہ امر ہے۔جب خدا اس کا وقت لائے گا تو پردۂ غیب سے کوئی شخص پیدا ہو جاوے گا۔جو دینی محبت اور دلی ارادت سے اس کام کو سرانجام دے۔تجویز چندہ کو موقوف رکھیں۔“ (مکتوبات احمد جلد اصح ۵۲۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مفت دینے میں تامل نہ تھا یہی نہیں بلکہ جب کبھی کوئی ایسا شخص آپ کے سامنے آتا جو استطاعت نہ رکھتا ہو اور دینی محبت اس کے اندر ہوا سے مفت دیدیتے۔بہت سی کتابیں آپ نے مفت دی تھیں۔میر عباس علی صاحب کو آپ نے ایک مرتبہ لکھا: اگر کوئی ہندو فی الحقیقت طالب حق ہے تو اُس سے رعایت کرنا واجب ہے بلکہ اگر کوئی شخص بے استطاعت ہو تو اُس کو مفت بلا قیمت دے سکتے ہیں غرض اصلی اشاعت دین ہے نہ خرید و فروخت۔جیسی صورت ہو اس سے اطلاع بخشیں تا کہ بھیجی جاوے۔“ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۲۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) مالی اغراض مدنظر نہ تھے آپ نے مختلف طریقوں سے اس امر کا اظہار کیا۔اور واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی تصنیف اور اشاعت سے مقصد کسی قسم کی دنیوی خواہش نہ تھی۔بلکہ ایک اور صرف ایک ہی قصد تھا کہ دینِ اسلام کی صداقت ظاہر ہو۔اور ان حملوں کا جواب دیا جاوے جو اُس وقت اسلام پر کئے جاتے تھے۔چنانچہ جب بعض لوگوں نے تحریک اعانت پر اس قسم کا جواب دیا کہ بعد تیاری کتاب خرید لیں گے۔تو آپ نے لکھا: