حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 66 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 66

حیات احمد ۶۶ جلد دوم حصہ اول آپ نے اس فلسفہ تعاون کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اس کی طرف اشارہ فرمایا۔کہ انبیاء علیہم السلام جو تو کل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سبہ سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی یہ رعایت اسباب ظاہری مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللَّهِ کہنا پڑا۔خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں یہ تصدیق اپنے قانونِ قدرت کے ” تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقُوای“ کا حکم فرمایا۔“ ( براہین احمدیہ جلد دوم صفحہ الف۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۶۰،۵۹) پس یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ نے کبھی کسی انسان پر وہ چھوٹا ہو یا بڑا بھروسہ نہیں کیا اور نہ اُسے امید گاہ بنایا۔ہاں! یہ سچ ہے کہ آپ نے رعایت اسباب کے اصول پر تحریک اعانت کے لئے کوئی کمی نہیں کی۔تمام ان لوگوں کو جن کی نسبت سمجھا جا سکتا تھا کہ وہ خدا داد مال و دولت سے اس کارخیر میں حصہ لینے کی اہلیت رکھتے ہیں آپ نے توجہ دلائی۔ان کو خطوط لکھے۔اشتہارات بھیجے۔بالآخر کتابیں بھی بھیجیں۔لیکن ہر طرف سے جواب ہمت شکن وصول ہوئے۔مگر جس کو خدا پر بھروسہ ہو وہ اس قسم کے جوابات سے ہمت ہار کر نہیں بیٹھ جاتا اس کی امید خدا پر اور بڑھ جاتی ہے۔اور وہ اس کی قدرت نمائی کے کرشموں کا نظارہ کرتا ہے۔یہی یہاں ہوا۔خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے یہ فرما دیا تھا کہ بالفعل نہیں یہ بھی ایک قسم کا انعام تھا۔اور اس کے بعد جب کوئی حوصلہ فرسا خط آتا تو آپ کے لئے حوصلہ فرسا نہیں ہوتا تھا بلکہ خدا تعالیٰ پر کامل یقین پیدا کرتا تھا اور امید کو وسیع کرتا تھا اس لئے کہ بالفعل نہیں کے لفظ میں آئندہ کے لئے پیشگوئی مضمر تھی کہ اعانت اور نصرت ہوگی مگر کچھ وقت کے بعد اور یہی ظہور میں آیا خدا تعالیٰ نے آپ سامان پیدا کئے اور ایسے سامان پیدا کئے کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوگئی اور حضرت اسی جوش مسرت میں پکار اُٹھے۔خود کنی و خود کنانی کار را خود دہی رونق تو ایں بازار ترجمہ۔تو آپ ہی سارے کام بتاتا ہے اور آپ ہی کرواتا ہے اور آپ ہی اس بازار کو رونق دیتا ہے۔