حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 58
حیات احمد ۵۸ جلد دوم حصہ اوّل تھی۔وہ خطوط جو آپ کو لکھنے ہوتے تھے وہ ایک دو یا دس نہ تھے بلکہ اُن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے۔چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حصہ کی اشاعت پر آپ نے بعض امرائے اسلام کو قریباً ڈیڑھ سو خطوط اور عرائض لکھے۔اور یہ تمام کے تمام مبسوط اور طویل خط تھے کیونکہ ان میں کتاب کی ضرورت اور اس کی طبع کے اخراجات اور اشاعت کے لئے تحریک جیسے امور کی وضاحت لازمی تھی۔پھر بعض کو یاد دہانی بھی کرانی پڑی۔ان خطوط کے علاوہ روانگی کتاب کا اہتمام بھی خود آپ ہی فرماتے تھے۔گویا کتاب کے مصنف سے لے کر اُس کے پروف ریڈر۔محتر راور دفتری تک کا سب کام آپ ہی کر رہے تھے۔اور یہ سب کام ایک جگہ نہیں ہو رہے تھے۔اس لئے کہ کتاب امرتسر میں چھپتی تھی۔اور قادیان سے اُسے روانہ کرنا پڑتا تھا۔کتاب کے لئے مختلف سفروں کی ساخت اور اس کی تصنیف سے لے کر اُس کی روانگی تک کی قلمی اور دماغی محنت کا اندازہ آسان نہیں۔آج تقسیم محنت کے اصول پر جو کام ہو رہا ہے۔باوجود یکہ ایک آدمی ایک ہی کام کرتا ہے پھر بھی کثرت کام کا شا کی اور اپنی کوفت سے نالاں ہے۔لیکن غور کرو اور دیکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایام طباعت براہین احمدیہ میں کس قدر کام تنہا کرتے تھے اور اس کے لئے قادیان سے امرتسر آنا جانا بھی پڑتا تھا۔طریق عمل براہین احمدیہ کی روانگی کے لئے ایک رجسٹر خریداران مرتب کیا تھا۔اور اس میں تمام اصحاب کے نام درج تھے۔جن کو کتاب بھیجی جاتی تھی۔آپ اس کام کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے کہ روانگی کتاب میں احتمال نہ رہے۔آپ خود اپنے ہاتھ سے پیکٹ تیار کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے مکتوب الیہ کا پتہ اُس پر تحریر فرماتے تھے۔اکثر صورتوں میں آپ کتاب کی رجسٹری کرا کر بھیجتے تھے یہ آپ کا طریق احتیاط تھا۔بیرنگ کبھی بھیجنے کے عادی نہ تھے۔کسی شاذ صورت میں بیرنگ بھیجا ہو تو اُس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ مکتوب الیہ نے خود ایسی ہدایت کی ہو۔جن لوگوں نے پیشگی قیمت دی تھی اُن کو عموماً آپ نے رجسٹری کرا کر کتاب بھیجی۔بعض امراء ورؤساء