حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 57
حیات احمد وو ۵۷ پادری رجب علی صاحب پر حضرت اقدس کا اثر جلد دوم حصہ اول میں نے پادری رجب علی صاحب کو نہیں دیکھا۔میرے قیام امرتسر کے وقت وہ حیدر آباد میں تھے لیکن ان کی اہلیہ میری" نامی امرتسر میں اسی بلڈنگ کے ایک حصہ میں رہتی تھیں۔جس میں خاکسار (عرفانی ) رہتا تھا۔اور حافظ عبدالرحمن صاحب امرتسری میرے ساتھ رہتے تھے۔اُن کے توسط سے مجھے بھی اہلیہ پادری رجب علی صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوتا تھا۔میں نے اُن سے براہین احمدیہ کی طبع کے زمانے کے متعلق جب ذکر کیا تو میری نے ہمیشہ کہا۔کہ :- پادری صاحب کہا کرتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب کی عمدہ اور اعلیٰ طباعت کا شوقین کوئی نہیں دیکھا۔اور اس کے لئے فراخدلی سے روپیہ خرچ کرنے میں مرزا صاحب سے بڑھ کر مجھے نظر نہیں آیا۔باوجودیکہ اُس کے پاس روپیہ نہیں وہ بہت دلیر اور فراخ حوصلہ ہیں۔“ کا پیاں امرتسر کبھی آپ خود لے جاتے یا بذریعہ ڈاک بصیغہ رجسٹری بھیجتے اور کبھی لالہ ملاوامل صاحب وغیرہ کو بھیج دیتے۔اور یہی طریق پروف بھیجنے کے متعلق تھا۔عام طور پر خود جانا پسند فرماتے تھے۔اور شیخ نور احمد صاحب کو تو عام ہدایت تھی کہ کبھی پروف بلا رجسٹری نہ بھیجے جاویں یہ امر آپ کی احتیاط پر دلالت کرتا ہے۔اس کتاب کے لئے آپ کو بے انتہا محنت کرنی پڑتی تھی۔اس لئے کہ قادیان محض ایک گاؤں تھا اور امرتسر تک یکہ پر جانا پڑتا تھا۔محرر اور پیکر (Packer) خود ہی تھے آپ اتنا ہی کام نہ کرتے تھے کہ خود کا پیاں لے جاتے اور پروف پڑھتے بلکہ جب کتاب کا کوئی حصہ طبع ہو کر آتا تو اُس کے متعلق تحریک کرنے کے لئے بھی آپ ہی کو خطوط وغیرہ لکھنے پڑتے۔ان لوگوں کی فہرستیں (جن کو کتاب یا خطوط لکھنے ہوتے ) خود تیار کرتے۔اور یہ بڑی محنت اور کاوش کا کام ہوتا تھا۔آج ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ ہر قسم کے وسائل میتر ہیں اور ہر قسم کی ڈائر یکٹریاں اور فہرستیں طبع شدہ میسر آتی ہیں مگر آج سے چالیس برس پیشتر پر نظر کرو کہ کیا حالت