حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 53
حیات احمد ۵۳ جلد دوم حصہ اول اپنے ہاتھ سے چھاپا۔پہلا حصہ خود پادری رجب علی صاحب کے سفیر ہند میں۔اور دوسرے اور تیسرے حصہ کو اپنے مطبع ریاض ہند میں اگر چہ مطبع کا نام ان پر بھی سفیر ہند ہی کا رہا۔اور چوتھا حصہ خود ان کی مطبع ریاض ہند ہی میں چھپا۔اور اس کے نام سے ہی شائع ہوا۔مگر شیخ نور احمد صاحب اس کے ختم ہونے کے وقت ہندوستان میں نہ تھے بلکہ وہ بخارا چلے گئے تھے۔اور اہتمام طباعت مکر می شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی کے ہاتھ میں تھا۔بلکہ سرورق بھی انہوں نے ہی لکھا۔شیخ نور احمد صاحب مراد آباد میں اخبار لوحِ محفوظ کے پریس میں پرنٹری کرتے تھے اور انہوں نے کاپی کی سیاہی کا اشتہار دیا ہوا تھا جسے لوگ پنجاب میں بھی منگواتے تھے۔اسی اشتہار کے ذریعہ پادری رجب علی صاحب نے انہیں مراد آباد سے پنجاب بلوا بھیجا۔شیخ محمدحسین صاحب مراد آبادی اس سے پہلے پنجاب آچکے تھے۔انہوں نے بھی تحریک کی اور شیخ صاحب امرتسر آ گئے۔اُس وقت پادری رجب علی صاحب اخبار وکیل ہندوستان کے ایڈیٹر و مینیجر تھے۔اُسے چھوڑ کر انہوں نے اپنا اخبار یعنی سفیر ہند جاری کیا۔شیخ صاحب بھی اس مطبع میں چلے آئے اور ۱۸۷۸ء کے آخر میں حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب نے سفیر ہند میں براہین احمدیہ کے چھپوانے کا انتظام کیا۔شیخ نور احمد صاحب کہتے تھے کہ سفیر ہند کے تمام پریس مین میرے سپرد تھے۔اور میرے ہی اہتمام سے سب کام ہوتے تھے۔اور خاص کر کتاب براہین احمدیہ پادری صاحب نے چھاپنے کے لئے میرے سپرد کی اور میں نے ہی اُس کا اول حصہ اسی مطبع میں (سفیر ہند ) میں چھاپا۔پھر میں نے اپنا پر لیس علیحدہ بنایا۔چونکہ چھپائی کا کام میرے ہاتھ سے صفائی سے ہوتا تھا۔اس لئے پادری صاحب نے دوسرا اور تیسرا حصہ میرے ہی مطبع میں چھپوایا۔سفیر ہند سے ریاض ہند شیخ صاحب کو اس کام کو اپنے ہاں لینے کا خیال نہ تھا اس لئے کہ کام بہر حال ان کے ہی مطبع میں ہو رہا تھا۔مگر خدا تعالیٰ جب کوئی غیر متوقع سامان کرتا ہے۔تو دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی ہے