حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 52 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 52

حیات احمد ۵۲ جلد دوم حصہ اول کتابت کا عہد آپ کے دعویٰ مسیحیت سے شروع ہوتا ہے۔براہین احمدیہ کا پرنٹر براہین احمدیہ کی طباعت کے لئے پادری رجب علی صاحب نے مراد آباد سے شیخ نور احمد صاحب کو بلایا جو اپنے فن طباعت میں بہترین ماہر تھا۔شیخ صاحب بالآخر اس سلسلہ میں ایک مخلص احمدی کی صورت میں منسلک ہوئے۔اور آخر تک وفادار رہ کر فوت ہوئے اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہیں۔یہاں میں ان کے حالات زندگی نہیں لکھ رہا بلکہ یہ بتا رہا ہوں کہ پادری صاحب نے خصوصیت کے ساتھ براہین کی طبع کا اہتمام کیا۔اور بہترین آدمی مہیا کئے۔کچھ عرصہ کے بعد یعنی دوسرے اور تیسرے حصہ کی طباعت کے وقت شیخ نور احمد صاحب نے پادری رجب علی صاحب کا کام چھوڑ کر اپنا ذاتی مطبع ریاض ہند کے نام سے جاری کیا۔پادری صاحب نے براہین کی طباعت کا وہی سٹینڈرڈ ( معیار قائم رکھنے کے لئے اس کی طباعت کا کام اُجرت پر شیخ صاحب کو دے دیا۔یعنی کتاب فی الحقیقت تو شیخ نور احمد صاحب اپنے مطبع میں چھاپتے تھے۔لیکن اس پر مطبع سفیر ہند کا نام درج ہوتا تھا۔آج جبکہ میں حضرت اقدس کے سوانح حیات میں براہین کے زمانہ کے حالات لکھ رہا ہوں۔پادری رجب علی منشی امام الدین، شیخ محمد حسین صاحب منشی غلام محمد اور شیخ نور احمد صاحب سب کے سب فوت ہو چکے ہیں ان میں سے شیخ محمد حسین اور شیخ نور احمد صاحب اور منشی غلام محمد صاحب کو قبول احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی اور شیخ نور احمد صاحب کو تو خدا تعالیٰ نے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کی دولت عطا فرمائی۔شیخ نور احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب واشتہارات کے علی العموم پرنٹر رہے۔امرتسر کے علاوہ وہ قادیان میں بھی اپنا پریس لے آیا کرتے تھے۔پھر انہوں نے مرزا اسماعیل اور بعض دوسرے لوگوں کو یہ کام سکھا دیا۔اور قادیان میں طباعت کا کام ہونے لگا۔جہاں تک براہین احمدیہ کی طبع کا سوال ہے۔اس کے تین حصوں کو شیخ نور احمد صاحب نے