حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 54
حیات احمد ۵۴ جلد دوم حصہ اوّل جس عجیب و غریب طریق پر ریاض ہند میں یہ کام چلا گیا۔اس کی داستان عجیب ہے۔میں اس واقعہ کو اس لئے لکھ دینا نہیں چاہتا کہ براہین احمدیہ کی طبع سے اس کا تعلق ہے یا شیخ نور احمد صاحب کے واقعات زندگی پر اثر ہو بلکہ اس لئے بھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا ایک گرامی قدر گو ہر ہے اور میں اسے محفوظ کر دینا چاہتا ہوں۔شیخ نور احمد صاحب نے بیان کیا کہ براہین احمدیہ کا تیسرا حصہ میرے مطبع ریاض ہند میں چھپ رہا تھا۔پادری صاحب نے حضرت صاحب کو بڑے تقاضے کے خطوط لکھے کہ روپیہ جلد بھیجو۔میرے مطبع کی طباعت کی عمدگی اور خوش معاملگی کا اثر دن بدن بڑھ رہا تھا اور کثرت سے کام آ رہا تھا۔پادری رجب علی صاحب کے ہاں کا کام بھی میرے ہاں آنے لگا اور اس طرح پر پادری صاحب میرے مطبع کو رقابت کی نظر سے دیکھتے تھے۔میرا پریس ہال بازار میں تھا۔وہ بھی اپنا پر یس وہاں ہی لے آیا۔اُن کا مطبع ہال بازار سے ایک طرف کو ہٹ کر تھا اور میرا مطبع لب سڑک تھا۔اُن کے تقاضے کے خطوط کی بناء پر حضرت صاحب روپیہ لے کر امرتسر تشریف لائے۔آپ نے ہال بازار میں چھاپا خانہ کا پتہ دریافت کیا تو چونکہ صرف چھاپہ خانہ آپ نے پوچھا اور میرا ہی پریس برلب سڑک تھا بتانے والے نے میرے مطبع کا پتہ دیدیا اور آپ وہاں تشریف لے آئے۔اتفاق سے اس وقت براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ کے پتھر پڑھے ہوئے چھپ رہے تھے۔آپ کو خیال گزرا کہ یہی رجب علی کا پریس ہے۔آپ نے ملازموں سے کہا پادری صاحب کو بلا ؤ۔ملازموں نے مجھے خبر دی۔میں گھر میں تھا۔باہر آیا اور السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور مصافحہ کیا۔حضرت صاحب چونکہ شیخ نور احمد صاحب سے واقف نہ تھے۔اور پادری صاحب کو جانتے تھے۔انہیں یہاں نہ پا کر کچھ تعجب بھی ہوا۔اور حسب ذیل گفتگو آپ سے ہوئی۔حضرت اقدس ( تعجب سے ) کیا یہ پریس رجب علی صاحب کا ہے۔شیخ نور احمد صاحب ( مؤدبانہ لہجہ میں ) آپ ہی کا ہے۔حضرت اقدس (یہ سمجھ کر کہ یہ اُن کا پریس نہیں ) رجب علی صاحب کا پر یس کہاں ہے اور یہ ہماری